Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
639 - 649
    حضرتِ سیِّدُنا معاویہ بن قرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''سورۃُ النساء کی یہ چار آیات اس امت کے لئے دُنْیَا وَمَا فِیْھَا (یعنی دنیا اور جو کچھ اس میں ہے)سے بہتر ہیں :
(7) اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جوکچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتاہے۔ (پ5،النسآء:48)
(8) وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔(پ5،النسآء:۶4)
(9) اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبٰٓئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمۡ مُّدْخَلًا کَرِیۡمًا ﴿31﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اگر بچتے رہوکبیرہ  گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔(پ5، النسآء:31)
(10) وَمَنۡ یَّعْمَلْ سُوۡٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللہَ یَجِدِ اللہَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿110﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو کوئی بُرائی یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔(پ5،النسآء:110)
(شعب الایمان للبیھقی،باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ،الحدیث۷۱۴۱،ج۵،ص۴۲۵،بتغیرٍ۔المعجم الکبیر،الحدیث۹0۶۹،ج۹،ص۲۲0)
    حضرتِ سیِّدُنا ابو غالب علیہ رحمۃ اللہ الغالب فرماتے ہیں: ''میں ابو امامہ کے پاس شام کے وقت جایا کرتا تھا۔ ایک دن ان کے پڑوس میں ایک مریض کے پاس گیا تو و ہ مریض کو جھڑ ک رہے تھے اور فرما رہے تھے : ''افسوس ہے تجھ پر، اے اپنی جان پر ظلم کرنے والے! کیا میں نے تجھے بھلائی کا حکم نہ دیا اوربرائی سے نہ روکا تھا؟تو وہ نوجوان بولا:''اے میرے محترم! اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے میری ماں کے سپرد کر دے اور میرا معاملہ اسی کے حوالے فرما دے تو میری ماں میرے ساتھ کیسا معاملہ فرمائے گی؟'' تو انہوں نے جواب دیا:''وہ تجھے جنت میں داخل کر دے گی ۔''تواس نے عرض کی :''اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ پر میری والدہ سے بھی زیادہ مہربان ہے۔'' پھر اس کی روح قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کر گئی۔ چنانچہ، جب اس کے چچا نے اس کے ساتھ قبر میں اُتر کر اُسے دفن کیا اور قبر کو برابر کر دیا تو اس نے گھبرا کرچیخ ماری۔ میں نے پوچھا: ''کیا ہوا؟'' توکہنے لگا:''اس کی قبر وسیع کر دی گئی اور نور سے بھر دی گئی ہے۔''
 (شعب الایمان للبیھقی،باب فی معالجۃکل ذنب با لتو بۃ،الحدیث۷۱۱۵،ج۵،ص۴۱۷)
    حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں قیدیوں کو لایا گیا۔ ان میں ایک عورت بھاگ رہی تھی۔ اس نے ایک قیدی بچے کو اٹھا
Flag Counter