Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
640 - 649
کر اپنے سینے سے لگایا اور اسے دودھ پلانے لگی۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اس عورت کو دیکھ کر بتاؤ! کیا یہ اپنے بچے کو جہنم میں ڈال دے گی ؟ ''عرض کی گئی:''نہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! کبھی نہیں۔''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ رحم وکرم کرتا ہے جتنی یہ عورت اپنے بچے پر مہربان ہے ۔''
(صحیح مسلم،کتاب التو بۃ،باب فی سعۃ رحمۃ اللہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۲۷۵۴،ص۱۱۵۵)
    اے میرے پيارے اسلامی بھائیو!جب اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں پر ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے تو پھر بندہ اس کی اطاعت کی طرف آگے کیوں نہیں بڑھتا اور اس کی نافرمانی سے منہ کیوں نہیں موڑتا اوراپنے آگے ایسی چیز کیوں نہیں بھیجتا جس کا نفع اسی کی طرف لوٹے گا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرما نِ عالیشان ہے:
(11) وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ مِّنْ خَیۡرٍ تَجِدُوۡہُ عِنۡدَ اللہِ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اور اپنی جانوں کے لیے جو بھلائی آگے بھیجوگے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے۔(پ1،البقرہ:110)

    حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر بن سلیم صواف فرماتے ہیں، ہم حضرتِ سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ا س شام حاضر ہوئے جس شام ان کا انتقال ہوا تھا۔ ہم نے عرض کی:''اے ابو عبداللہ ! آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟''ارشاد فرمایا: ''میں نہیں جانتاکہ تمہیں کیا کہوں، ہاں! تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عفو وکرم دیکھتے رہوگے جب تک تمہارا حساب نہیں ہوگا۔''ہم ان کی روح قبض ہونے تک وہیں ان کے پاس رہے۔''
(الموسوعۃ للامام ابن ابی الدنیا،کتاب حسن الظن باللہ، الحدیث۸۵، ج۱، ص۹۵)
قبر کی تنہائی اور رحمتِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ :
    منقول ہے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کا لطف وکرم بندے پر اس وقت بہت زیادہ ہوتاہے جب اس کو قبر میں اُتارا جاتا ہے اورسخت مِٹی اس کے نرم و نازک رُخسار پر رکھ دی جاتی ہے اور اس کے قرب میں رہنے والے، محبت کرنے والے جب بے وفائی کر جاتے ہیں ۔ جب میت کواوّلاً تختۂ غسل پر رکھ کر اس کا لباس اُتار دیا جاتا ہے تو وہ اپنے احباب سے مایوس ہو کر پکارتاہے : ''ہائے بربادی و رسوائی !''اس کی ندا سوائے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کوئی نہیں سنتا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ''میرے بندے !میں نے دنیامیں تیری پردہ پوشی کی آخرت میں بھی پردہ پوشی کروں گا۔''جب میت کو چارپائی پر رکھ کر گھر سے سوئے قبرستان چل پڑتے ہیں تو وہ چلاتا ہے: ہائے تنہائی !''
Flag Counter