ترجمۂ کنزالایمان:اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا دیا۔(پ4،ال عمران :103)
کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو عرض کی :''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !اگررحمن ورحیم عَزَّوَجَلَّ انہیں جہنم میں گرانے کا ارادہ فرما لیتا تو پھر انہیں اس میں گرنے سے نہ بچاتا ۔'' حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے ارشاد فرمایا:''اعرابی کی اس بات کو پلے باندھ لو حالانکہ یہ فقیہہ نہیں۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب الذکر والموت ومابعدھا،سعۃ رحمۃ اللہ علی سبیل التفاؤل بذلک،ج۵،ص۳۱۳)
منقول ہے:''قیامت کے دن جب اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندے کی پردہ پوشی چاہے گا اور اسے سب کے سامنے رسوا نہ کرنے کا ارادہ فرمائے گا تو اس کا گناہوں بھرا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں عطا فرمائے گا۔ وہ بندہ اس کی وجہ سے خوف زدہ ہو گا جو اس کے نامۂ اعمال میں ہو گاکیونکہ اسے معلوم ہو گا کہ اس کے گنا ہ بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ، نامۂ اعمال میں جہاں گناہ لکھے ہوں گے وہاں وہ آواز آہستہ کر لے گا اور اپنے دل میں کہے گا:''سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میری تو ایک نیکی بھی نہیں۔''جبکہ لوگ کہیں گے :''سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! اس بندے کے نامۂ اعمال میں تو ایک گناہ بھی نہیں۔'' جب وہ آہستہ آواز میں پڑھ کر فارغ ہو گاتواللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا:''اے میرے بندے!تیری نیکیوں کو میں نے اپنی مخلوق پر ظاہر کیا اور تیر ی برائیوں کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی فرمائی ،اے میرے فرشتو! اس کو میرے عفوو کرم سے جنت میں لے جاؤ۔''
حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بارگاہ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں اپنی امت کے گناہوں کے متعلق دعا کی اور عرض کی :''یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو ان کا حساب میرے حوالے کر دے تا کہ ان کی برائیوں پر میرے علاوہ کوئی اور آگاہ نہ ہو۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی :''یہ تیری امت ہے، میں اس پر تجھ سے زیادہ رحم فرمانے والا ہو ں ،میں ان کا حساب کسی کے حوالے نہیں کروں گا تا کہ میرے علاوہ کوئی ان کی برائیاں نہ دیکھے ۔''
(احیاء علوم الدین ،کتاب الخوف والرجاء ،بیان دواء الرجاء۔۔۔۔۔۔الخ،ج۴،ص۱۸۱)