Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
637 - 649
گے۔ اہلِ جنت ان کو پہچان کر کہیں گے :''یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے آزاد کردہ بندے ہیں، جن کو وہ بغیر کسی عمل اور نیکی کے جنت میں داخل کریگا۔'' ان سے کہا جائے گا :''جنت میں داخل ہو جاؤ، جو کچھ تم دیکھو گے وہ تمہارے لئے ہے۔''وہ عرض کریں گے: ''اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ ! تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کیا جو مخلوق میں سے کسی کو نہ دیا ۔''اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ''تمہارے لئے میرے پاس اس سے بھی افضل چیز ہے ۔ '' وہ عرض کریں گے:''اس سے افضل شئے کون سی ہے ؟''تو ارشاد ہو گا: ''میں تم سے راضی ہو گیا ہوں،اب کبھی ناراض نہ ہو ں گا۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الایمان،باب معرفۃ طریق الرؤیۃ، الحدیث۱۸۳، ص۷۱۱)
    مروی ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ اولادِ آدم میں سے ایک کروڑ دس لاکھ (1,10,00,000) کے حق میں حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی شفاعت قبول فرمائے گا۔''
 (المعجم الاوسط، الحدیث۶۸۴0،ج۵،ص۱۳۸،''الف الف''بدلہ ''مائۃ الف الف'')
    حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:''میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لئے ہے۔''حضرتِ سیِّدُنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''جنہوں نے کبیرہ  گناہوں کا ارتکاب نہیں کیا انہیں شفاعت کی کیا حاجت؟یعنی وہ شفاعت کے محتاج نہیں ۔ ''
(جامع التر مذی،ابواب صفۃالقیامۃ،باب منہ حدیث شفاعتی لاھل الکبا ئرمن امتی، الحدیث ۳۶ ۲۴،ص۱۸۹۷)
    ایک روایت میں ہے، ایک اعرابی نے عرض کی: ''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مخلوق کا حساب کون لے گا؟'' ارشاد فرمایا:''اللہ تبارک وتعالیٰ ۔'' اس نے عرض کی:''کیا وہ خود لے گا؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''ہاں۔'' تو وہ اعرابی مسکرا دیا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے اس سے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو اس نے عرض کی: ''کریم جب کسی پر قدرت پاتا ہے تو معاف کر دیتا ہے،جب حساب لیتا ہے تو درگزر فرماتاہے۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اعرابی نے سچ کہا، جان لو! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بڑا کریم کوئی نہیں، وہ سب کریموں سے بڑھ کر کریم ہے ۔''
(شعب الایمان للبیھقی،باب فی حشرالناس بعدما۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۲۶۲،ج۱،ص۲۴۶)
    پھر اس اعرابی نے عربی میں چند اشعار کہے، جن کا مفہوم کچھ یوں ہے:

    (۱)۔۔۔۔۔۔کریم کاحق جب کسی شخص کے نزدیک متعین ہو جائے تو وہ اپنی عزت کی وجہ سے اسے معاف فرما دیتا ہے۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔وہ نافرمان سے درگزر کر کے اس کے گناہ بخش دیتا ہے حالانکہ اس کا گناہ گار اورمجرم ہوناثابت ہے ۔

     مشہور حدیثِ پاک ہے، ''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کائنات کی تخلیق سے قبل یہ طے کر لیا تھاکہ میر ی رحمت میرے غضب پر غالب ہو گی۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب الخوف والرجاء،بیان دواء الرجاء۔۔۔۔۔۔الخ،ج۴،ص۱۸۴)
Flag Counter