| حکایتیں اور نصیحتیں |
حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،میں نے حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ''اے ابنِ آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے مغفرت کاسوال کرے تو میں تیری مغفرت فرما دوں گااوراس کی ذرہ برابر پرواہ نہ کروں گا۔ اے ابن آدم!اگر تو زمین کے برابر خطائیں لے کر میری بارگاہ میں حاضر ہو تو میں اس کے مطابق تیری بخشش فرما دوں گا بشرطیکہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو۔''
(جامع التر مذی،کتاب الدعوات،باب الحدیث القدسی ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث3540،ص2016)
حضرتِ سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضور نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عظیم الشان ہے : ''میری امت رحم کی ہوئی امت ہے،اس کا عذاب دنیا میں ہی زلزلوں اور فتنوں کے ذریعے ہو جائے گا۔ جب قیامت کادن ہوگاتومیرے ہر امتی کو ایک کتابی(یعنی عیسائی یا یہودی) دیا جائے گا اور کہا جائے گاکہ یہ تیری طرف سے جہنم میں جائے گا۔''
(سنن ابی داؤد، کتاب الفتن،باب مایرجی فی القتل،الحدیث۴۲۷۸ ،ص ۱۵۳۴۔المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث ابی موسی الاشعری،الحدیث ۱۹۶۷۸، ج۷، ص۱۵۶،بتغیرٍ)
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے سامنے خوش ہوکر تجلی فرمائے گااور ارشاد فرمائے گا:''خوش ہوجاؤ،اے مسلمانوں کے گروہ!تم میں سے ہر ایک کی جگہ جہنم میں یہودی یا نصرانی کو ڈالاجائے گا۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب ذکرالموت ومابعدہ، الشطر الثانی،سعۃ رحمۃ اللہ علی سبیل التفاؤل بذلک،ج۵،ص۳۱۲)
حضرتِ سیِّدُنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کائنات کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل امید کے ایک کاغذپر ایک معاہدہ لکھا پھر اس کو عرش پر رکھا اور ندا دی :''اے امتِ محمدیہ!بے شک میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی، میں تمہارے سوال کرنے سے پہلے ہی تمہیں عطاکردوں گااور مغفرت کاسوال کرنے سے قبل ہی تمہیں بخش دوں گا،تم میں جو مجھ سے ملے اور یہ گواہی دیتاہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمد( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم) میرے بندے اور رسول ہیں تو میں اسے جنت میں داخل کر دوں گا۔''
(فردوس الاخبارللدیلمی،باب الواو،فصل فی تفسیرالقرآن،الحدیث۷۴0۲،ج۲،ص۴0۳)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ جنت نشان ہے:'' جب قیامت کادن ہوگاتو عرش کے نیچے سے ایک منادی ندا کریگا: ''اے امتِ محمدیہ!سن! میرا جو حق تیرے ذمہ تھا وہ میں نے معاف کردیا، اب ایک دوسرے کو معاف کرکے میری رحمت سے