| حکایتیں اور نصیحتیں |
فرمایا ہوتا تو اپنی معرفت و توحید کبھی اس کے دل میں نہ ڈالتا، کیونکہ وہ خود ارشاد فرماتاہے:
(3) لَا یَصْلٰىہَاۤ اِلَّا الْاَشْقَی ۙ﴿15﴾الَّذِیۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ16﴾
ترجمۂ کنزالایمان:نہ جائے گا اس میں مگربڑا بدبخت جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔(پ30،الیل:15،16)
حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''ہمیں بتایاگیا ہے کہ کچھ لوگوں نے زمانۂ جاہلیت میں بہت گناہ کئے تھے۔ جب اسلام آیاتو ان کو یہ خوف تھا کہ ان کی توبہ قبول نہ ہوگی۔چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس آیتِ مبارکہ میں اُن کو مخاطب فرمایا:قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿53﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتاہے ،بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ24،الزمر:53)
(تفسیر طبری،سورۃ الزمر،تحت الآیۃ ۵۳،الحدیث ۳0۱۷۸،ج۱۱،ص۱۵)
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:''اگر تم اتنی خطائیں کرو کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر توبہ کرو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ضرورتمہاری توبہ قبول فرما ئے گا۔''
(سنن ابن ماجۃ،ابواب الزھد،باب ذکر التوبۃ،الحدیث۴۲۴۸،ص۲۷۳۵)
سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ''اے میرے بندو! تم رات د ن گناہوں میں بسر کرتے ہواور میں گناہوں کو بخشتا رہتا ہوں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ پس تم مجھ سے بخشش طلب کرتے رہو میں تمہیں بخشتا رہوں گا۔''
(صحیح مسلم،کتاب البر والصلۃ،باب تحریم الظلم ،الحدیث۲۵۷۷،ص۱۱۲۹)
حضرتِ سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ارشادِ رحمت بنیاد ہے:''بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ رات کے وقت اپنا دستِ قدرت پھیلا دیتاہے تاکہ دن میں گناہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرمائے اور دن میں اپنا دستِ قدرت پھیلا دیتا ہے تاکہ رات کے وقت گناہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرمائے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔''
(صحیح مسلم، کتاب التو بۃ،باب قبول التو بۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۲۷۵۹،ص۱۱۵۶)
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، اللہ کے پیارے حبیب ، حبیب لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے:''اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ کرو اور بخشش کا سوال نہ کرو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ضرور تمہاری جگہ ایسی قوم لے آئے گاجو گناہ کر کے بخشش کا سوال کریں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی مغفرت فرما دے گا ۔''
(صحیح مسلم ،کتاب التو بہ،باب سقوط الذنوب۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۲۷۴۹، ص۱۱۵۴)