Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
635 - 649
جنت میں داخل ہوجاؤ۔'
' (احیاء علوم الدین،کتاب ذکرالموت ومابعدہ،الشطر الثانی،سعۃ رحمۃ اللہ۔۔۔۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۱۳)
    حضرتِ سیِّدُنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی سو رحمتیں ہیں اس نے ایک رحمت اہلِ دنیا کی طرف اُتاری تو وہ انہیں ان کی موت تک کافی ہو گئی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس رحمت کوقیامت تک روکے رکھے گا پھر قیامت کے دن اسے نناوے(99) رحمتوں میں ملاکر اپنے اولیاء کرام علیہم الرحمۃ اور اطاعت گزاروں کے لئے سو(100) رحمتیں مکمل فرما دے گا ۔''
(المسند للامام احمدبن حنبل ، مسند ابی ھریرۃ ،الحدیث ۱0۶۷۵ ، ج ۳ ، ص ۵۹۴،بتغیرٍ)
    امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو روتا ہوا دیکھ کر عرض گزار ہوئے : ''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!آپ کیوں رو رہے ہیں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے جواب دیا: ''میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کو حیا آتی ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو عذاب دے جو اسلام میں بوڑھا ہوا ہو،پھر اسلام میں بوڑھے ہونے والے کوحیا کیوں نہیں آتی کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرتا ہے۔''
(کشف الخفاء ،حرف الھمزۃ مع النون ،الحدیث۷۴۱،ج۱،ص۲۱۷،مختصرًا)
    حضرتِ سیِّدُنا احمد بن سہل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں حضر تِ سیِّدُنا یحیی بن اکثم علیہ رحمۃاللہ الاکرم کو دیکھ کر پوچھا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' توانہوں نے جواب دیا کہ مجھے بلاکر ارشاد فرمایا: '' اے بوڑھے! میں نے عرض کی :''یااللہ عَزَّوَجَلَّ !ہمیں حضرتِ سیِّدُنا عبدالرزاق نے حضرتِ سیِّدُنا معمر کے حوالے سے ،انہوں نے حضرتِ سیِّدُنا زہری کے حوالے سے، انہوں نے حضرتِ سیِّدُناعروہ کے حوالے سے اور انہوں نے اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے یہ بات بتائی کہ حضورنبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے بیان فرمایا:'' حضرتِ جبرائیلِ امین علیہ الصلٰوۃوالسلام نے مجھے بتایاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتاہے:''مجھے حیا آتی ہے کہ میں کسی سفید بالوں والے کو عذاب دوں جواسلام میں بوڑھا ہوا ہو۔''اور میں تو بہت عمر رسیدہ ہوں۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:''عبدالرزاق نے سچ کہا،معمر نے سچ کہا،زہری نے صحیح کہا،عروہ بھی سچا ہے، عائشہ نے بھی ٹھیک کہا، میرے نبئ کریم نے بھی سچ فرمایا، جبرائیل نے بھی سچ بتایااور میں نے بھی سچ فرمایا ہے۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے دائیں طرف جنت میں جانے کاحکم فرمایا۔''
    (تاریخ بغداد،الرقم۷۴۸۹یحیی بن اکثم، ج۱۴، ص۲0۶،بدون عائشۃرضی اللہ تعالی عنہا۔کشف الخفائ،حرف الھمزۃ مع النون،تحت الحدیث۷۴۱، ج۱، ص۲۱۷)
Flag Counter