| حکایتیں اور نصیحتیں |
پھر اُنگلی کے پَورے جتنا کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرتِ محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی رسالت کی گواہی لکھی ہو گی۔جب اس ٹکڑے کو ترازو کے دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گاتو وہ گناہوں پر غالب آجائے گااور اللہ عَزَّوَجَلَّ محض اس کلمہ
لَآاِلٰہَ اِلاَّاللہ
کی برکت سے اس کو معاف فرما کر جنت میں لے جانے کاحکم فرمادے گا۔''
(تفسیر الطبری،سورۃ الاعراف،تحت الآیۃ۸، الحدیث۱۴۳۴۱،ج ۵،ص۴۳۴۔ فردوس الاخبارللدیلمی،باب الیائ، الحدیث۸۴۷۲، ج۲، ص۴۹۸)
کلمۂ طیبہ کے اس قدر فضائل ہیں کہ انہیں شمار نہیں کیا جاسکتا۔
وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن