تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''اپنے مُردوں کو لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی تلقین کرو اور انہیں جنت کی بشارت دو کیونکہ دانا اور باخبر مرد وعورت اس کلمہ کو سن کر خوش ہوتے ہیں ۔''
(صحیح مسلم،کتاب الجنائز،باب تلقین الموت ۔۔۔۔۔۔ الخ، الحدیث۹۱۶، ص۸۲۱۔ موسوعۃ للامام ابن ابی الدنیا،کتاب ذکرالموت،باب خوف من اللہ،الحدیث۱۶۹،ج۵،ص۴۴۶)
اے میرے پيارے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے۔ (آمین)دیکھو تو سہی!کلمۂ اخلاص
کتنا عظیم الشان ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک اس کا مقام کتنا بلند ہے۔ اس کا ذکر کثرت سے کروتاکہ اجر ِ کثیر پاؤ،اس سے ثوابِ کامل اور اجر ِ وافر ملتاہے۔مؤمن ،کافر سے ممتاز ہوجاتاہے۔اور جوبندہ مؤذن کو سنے اورجس طرح مؤذن کہتاہے اسی طرح کہے اورجب مؤذن کہے
کہے اور پھر تبرکاً اپنے چہرے او ر داڑھی پرہاتھ پھیر لے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ہر اس بال کے عوض جس کو اس کے ہاتھ نے چھوا ایک نیکی لکھتاہے اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔
ایک صحابئ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے:''جس نے
کی تعظیم کی خاطراسے بلند آواز سے کہااللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے چار ہزار گناہ معاف فرما دے گا۔''اور یہ بھی منقول ہے :'' اگر اس کے چار ہزار گنا ہ نہ ہوں تو اس کے گھر والوں اور پڑوسیوں کے گناہ معاف فرما دے گا۔''
(فردوس الاخبارللدیلمی،باب المیم، الحدیث۵۵۱۱،ج۲ص۳ ۳ ۲)
فضلِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ پر قربان:
منقول ہے :''قیامت کے دن ایک شخص کو میزان پر لایا جائے گااور اس کے نامۂ اعمال کے(99)رجسٹر نکالے جائیں گے جن میں سے ہر رجسٹر پراس کے گناہ درج ہوں گے اور وہ رجسٹر تاحدّ ِ نگاہ وسیع ہوں گے،ان کو میزان میں رکھا جائے گا