Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
625 - 649
     پیارے اسلامی بھائیو! مؤمنین سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور حاضرہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی محبت اور اپنا فرمانبردارہوناان کے لئے مقدّرفرمادیاتھا تو وہ وہبی(عطائی) ولایت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولی بن گئے۔ یقینا آیاتِ طیِّبات میں ان کی مدح فرمائی گئی ہے۔'' چنانچہ،اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
 (5) یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ
ترجمۂ کنزالایمان:وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا۔(پ6،المائدۃ:54)

    حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تم اپنے مُردوں کو لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی تلقین کرو کہ یہ گناہوں کو مٹاتاہے۔''
    (الموسوعۃ لامام ابن ابی الدنیا ،کتاب المحتضرین ، الحدیث۲/۳،ج۵،ص۳0۳)
    نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس کا آخری کلام لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ ہوا وہ جنت میں داخل ہوگا۔''
 (سنن ابوداؤد،کتاب الجنائز،باب فی التلقین، الحدیث۳۱۱۶، ص۱۴۵۸)
    حضرتِ سیِّدُنا صنابحی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''میں حضرتِ سیِّدُنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حالتِ نزع میں ان کے پاس حاضر تھا۔ (ان کی حالت دیکھ کر) میں رونے لگا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: '' چُپ ہو جایئے، آپ کیوں روتے ہیں؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر مجھ سے گواہی طلب کی گئی تو میں آپ کے حق میں گواہی دوں گا،اگر مجھ سے شفاعت کا کہا گیا تو میں آپ کی شفاعت کروں گا،اگر مجھ سے ہو سکا تو آپ کوہر قسم کا نفع پہنچاؤں گا۔''پھر ارشاد فرمایا:''قسم بخداعَزَّوَجَلَّ!میں نے حضور رحمتِ عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے سنی ہوئی تمام احادیث، جن میں آپ کے لئے بھلائی تھی، آپ کو بیان کرد ی ہیں مگرایک حدیث بیان نہیں کی، وہ آج بیان کردیتاہوں اور اسے میں نے اپنے دل میں محفوظ رکھا ہے(پھرارشاد فرمایا)میں نے تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جود وسخاوت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ ارشاد فرماتے سنا: ''جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اس کا رسول ہوں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر دوزخ کی آگ حرام فرما دیتا ہے۔''
 (المسندللامام احمد بن حنبل ،حدیث عبادۃ بن الصامت ،الحدیث ۲۲۷۷۴، ج۸، ص۴0۲)
    حضرتِ سیِّدُنا ابو الاسود دوئلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سیِّدُنا ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ ''میں اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آرام فرما رہے تھے اور آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے اوپر ایک سفید کپڑا تھا پھر دوسری بار حاضر ہوا تو بھی آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آرام فرما رہے تھے۔ تیسری بار حاضر ہوا تو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم بیدار تھے۔ میں بیٹھ گیا،آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جو کوئی لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کہے، پھر اسی حالت پر مر جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔''میں نے عرض کی : ''اگرچہ وہ
Flag Counter