Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
624 - 649
اس کا ذکر کثرت سے کریں۔ دن رات میں چوبیس (24)گھنٹے ہیں،اور
لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللہ
کے حروف بھی چوبیس ہیں، ہر حرف ایک گھنٹے کے گناہوں کا کفارہ ہے۔''

    منقول ہے :''جب بندہ دن یارات کے کسی لمحے میں کلمۂ طیبہ پڑھتاہے تواس کے نامۂ اعمال میں جو خطائیں اور گناہ ہوتے ہیں وہ مٹ جاتے ہیں اور ان کی جگہ نیکیاں لے لیتی ہیں۔''
(مسند ابی یعلی الموصلی،مسند انس بن مالک، الحدیث۳۵۹۹، ج۳،ص۲۷۲)
    نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''سب سے افضل بات جو میں نے اور مجھ سے قبل انبیاء نے کہی وہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کہنا ہے ۔''
                (الموطأ للامام مالک ،کتاب القرآن ، باب ماجاء فی الدعاء ،الحدیث ۵0۹ ،ج۱،ص۲0۳)
    حضور سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے :''مجھے لوگوں سے جہاد کا حکم دیا گیایہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لے آئیں ۔''
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب الامربقتال الناس۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۲۱،ج۶۸۴)
    حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:
''لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ''
 پڑھنے والوں پر نہ قبر میں کوئی وحشت ہو گی اور نہ قبروں سے زندہ اٹھنے میں اور نہ ہی قیامت میں۔ گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں ،جب وہ اپنے سروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے قبروں سے نکلیں گے اور
لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ
کہتے ہوئے جنت میں داخل ہوجائیں گے،پھروہ کہیں گے:
''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنَّا الْحُزْنَ، اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرٌ
یعنی سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے ہم سے غم کو دُور فرمایا،بے شک ہمارا رب بخشنے والا، شکر قبول کرنے والا ہے۔''
(تاریخ بغداد، الرقم۵۳۸0 عبد الرحمٰن بن واقد، ج۱0،ص۲۶۴،احیاء علوم الدین،کتاب الاذکار والدعوات،باب اول،فضیلۃ التھلیل، ج۱، ص۳۹۴، المعجم الاوسط، الحدث۹۴۷۸،ج۶ ، ص۴۸0)
حضور نبئ کریم، ر ء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی گئی: ''کون سا عمل سب سے افضل ہے؟'' ارشاد فرمایا: ''مرتے وقت تیری زبان اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکرسے تر ہو۔''
 (الاحسان بتر تیب صحیح ابن حبان،کتاب الرقائق،باب الاذکار،الحدیث۸۱۵،ج۲،ص ۹۳)
    اللہ کے پیارے حبیب ،حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: '' کلمۂ طیبہ پڑھنے والوں کو میرے قریب کر دو، بے شک میں ان سے محبت کرتاہوں۔''
 (فردوس الاخبارللدیلمی، باب الیاء، الحدیث۸۱۱۵،ج۲،ص۴۶0)
Flag Counter