ترجمۂ کنزالایمان:اور پرہیز گاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا۔(پ26،الفتح:26)
حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:''کَلِمَۃَ التَّقْوٰی'' سے مراد لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کہنا ہے۔''
(المستدرک ،کتاب التفسیر،تفسیرسورۃالفتح ،باب کلمۃالتقوی۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۳۷۶۹،ج۳،ص۲۶۱)
''اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ
ترجمۂ کنزالایمان:اسی کی طرف چڑھتاہے پاکیزہ کلام۔''(پ22، فاطر:10)
کہناہے۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ ا رشاد فرماتا ہے:
(4) مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:جو ایک نیکی لائے تواس کے لیے اس جیسی دس ہیں۔ (۱)(پ8،الانعام:160)
کہنا ہے ۔''
بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:''کلمۂ طیِّبہ ایک مضبوط زرہ اور محفوظ قلعہ ہے جس نے کلمہ طیبہ پڑھا وہ ہر قسم کی برائی سے حفاظت میں ہوگیا۔اس لئے کہ حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :
کے ذکر سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عظمت و بزرگی بیان کروکیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
میرا قلعہ ہے، تو جو میرے قلعے میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہو گیا۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب اسرار الصلاۃ،باب ثالث،بیان تفصیل ما۔۔۔۔۔۔الخ، ج۱، ص۲۲۷)
حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:''اگر گنہگاروں کو معلوم ہو جائے کہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ میں کیا اجر ہے تو
بقیہ حاشیہ۔۔۔۔۔۔رسول ہیں۔مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر،کیونکہ اگرتُونے مجھے میرے نفس کے حوالے کردیاتووہ مجھے بھلائی سے دوراوربرائی کے قریب کردے گا۔میں تیری رحمت کے علاوہ کسی چیزپربھروسہ نہیں کرتا،میرے اس اقرارکوبطورِعہدنامہ محفوظ فرمااورقیامت کے دن مجھے پورابدلہ عطافرما۔بے شک تُووعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ )جویہ کہے گااللہ تعالیٰ اس پرمہرلگاکرعرش کے نیچے رکھے گااورجب قیامت کادن ہوگاتوایک منادِی نداکریگاکہ کہاں ہیں وہ لوگ جن کااللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس عہد ہے؟وہ شخص کھڑا ہوگااوراسے جنت میں داخل کردیا جائے گا ۔ '' (تفسیرقرطبی،سورۂ مریم، تحت الآیہ: ۸۷، ج۶، ص ۶۳) 1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل، سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : '' یعنی ایک نیکی کرنے والے کو دس نیکیوں کی جزا اور یہ بھی حدو نہایت کے طریقہ پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے جتنا چاہے اس کی نیکیوں کو بڑھائے ۔ایک کے سات سو کرے یا بے حساب عطا فرمائے۔ اصل یہ ہے کہ نیکیوں کا ثواب محض فضل ہے۔ یہی مذہب ہے اہل سنت کا اور بدی کی اتنی ہی جزا، یہ عدل ہے۔''