Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
622 - 649
، اوراس گواہی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کرتاہوں،یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس میری امانت ہے ۔پھر انہوں نے اس آیتِ طیبہ کو کئی بار دہرایا۔ میں نے دل میں سوچاکہ ضرور اس کے متعلق انہوں نے کچھ سن رکھاہے۔چنانچہ، میں نے ان کے ساتھ مل کر نماز ادا کی اور رخصت ہوتے وقت عرض کی: ''میں نے آپ کو یہ آیتِ مبارکہ باربار پڑھتے سناہے، کیا آپ نے اس کے متعلق کوئی (فضیلت ) سنی ہے؟'' تو انہوں نے فرمایا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں ایک سال تک نہیں بتاؤں گا۔''

    چنانچہ، میں نے ان کے دروازے پر وہ دن لکھ دیا اور سال گزرنے کا انتظار کرنے لگا،سال گزرنے پر میں نے عرض کی: ''اے ابو محمد! سال گزر چکا ہے ۔'' تو ارشاد فرمایا:''مجھے حضرتِ سیِّدُنا ابووائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرکے بتایاہے کہ رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''قیامت کے دن اس آیتِ مبارکہ کو پڑھنے والا لایا جائے گاتو اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا :''میرے اس بندے کا میرے پاس عہد ہے اور میں سب سے زیادہ عہد کو پورا کرنے کا حق دار ہوں، (اے فرشتو!)میرے بندے کو جنت میں داخل کر دو۔''
  (المعجم الکبیر،الحدیث۱0۴۵۳،ج۱0،ص۱۹۹)
    منقول ہے: ''جس نے سوتے وقت مذکورہ آیتِ مبارکہ پڑھی اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے ایک فرشتہ پیدا فرمائے گا جو تاقیامت اس (پڑھنے والے) کے لئے استغفار کرتارہے گا۔''
 (تفسیرالقرطبی،سورۃآل عمران ،تحت الآیۃ۱۸،ج۲،الجزء الرابع، ص۳۴)
    حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان
''غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ
کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ '' اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے جو اس کی وحدانیت کی گواہی دے۔''

    اور
''شَدِیۡدِ الْعِقَابِ ۙ
کی تفسیر میں فرماتے ہیں: '' اس شخص کو سخت عذاب دینے والا ہے جو اس کی وحدانیت پر ایمان نہ لائے ۔'' ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 (2) اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحْمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۘ87﴾
ترجمۂ کنزالایمان:مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار رکھا ہے۔(۱)(پ16،مریم :87)
1۔۔۔۔۔۔ مفسرِقرآن، حضرتِ سیدناابوعبداللہ محمدبن احمدانصاری قرطبی علیہ رحمۃ اللہ القوی،اس آیت کے تحت عہد کی تفسیربیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''حضرتِ سیدناعبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ'' رسول اللہ عَزَّوَّجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ علیہم الرضوان سے یہ فرمایا:''کیاتم اس بات سے عاجز ہوکہ صبح وشام رب عَزَّوَّجَلَّ کے پاس ایک عہد لو؟''عرض کی:'' وہ کس طرح؟''فرمایا:''صبح وشام یہ کہو! ''اَللّٰھُمَّ فَاطِرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ اِنِّیْ اَعْھَدُ اِلَیْکَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃِ بِاَنِّیْ اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلاَّاَنْتَ لَاشَرِیْکَ لَکَ وَاَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ فَلَاتَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ فَاِنَّکَ اِنْ تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ تُبَاعِدْ نِیْ مِنَ الْخَیْرِوَتُقَرِّبْنِیْ اِلَی الشَّرِّوَاِنِّیْ لَا اَثِقُ اِلاَّ بِرَحْمَتِکَ فَاجْعَلْ لِّیْ عِنْدَکَ عَھْدًا تُوَفِّیْنِیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !اے آسمانوں اورزمین کو پیدا کرنے والے!اے پوشیدہ وظاہرکوجاننے والے!میں تیرے پاس اس زندگی میں ایک عہدرکھتاہوں۔وہ یہ کہ میں گواہی دیتاہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودنہیں۔تُواکیلاہے۔تیراکوئی شریک نہیں۔اورمیں گواہی دیتاہوں کہ حضرت (سیدنا)محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)تیرے بندے اور۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر
Flag Counter