| حکایتیں اور نصیحتیں |
پہنچایاتواس کی برکت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے بخش دیا۔''
ایک عارف کا بیان ہے کہ''میں ایک رات نماز پڑھتے ہوئے تشہد میں سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود ِپاک پڑھنابھول گیا،مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا اور میں سو گیا۔خواب میں آقا ئے دو جہاں، سرورِ ذیشاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا دیدار نصیب ہوا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''تو آج ہم پر درود بھیجنا بھول گیا۔''میں نے عرض کی :''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ثنا ء میں مشغو ل تھا۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''کیا تجھے معلوم نہیں کہ مجھ پر درودِ پاک پڑھے بغیر اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی ثناء بھی قبول نہیں فرماتا، وہ ایسی کوئی دعا قبول نہیں فرماتا جس میں مجھ پر درود نہ بھیجا گیا ہو اور کوئی حاجت پوری نہیں فرماتا جب تک کہ مجھ پر درودِ پاک نہ بھیجا جائے، کیا تم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ مبارک فرمان نہیں سنا؟صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿56﴾
ترجمۂ کنزالایمان:ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔(پ22،الاحزاب:56)
سرکارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے چہرے کی سیاہی دُور فرمادی:
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں نے دورانِ طواف ایک شخص کو ہر قدم پر حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم پر درودِ پاک پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا:''اے بھائی!
''سُبْحَانَ اللہِ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ''
کے بجائے درودِ پاک کا وِرد کئے جا رہے ہو، اس میں تمہارا کیا راز ہے؟''تو وہ پوچھنے لگا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو معاف فرمائے، آپ کون ہیں؟'' میں نے بتایا: ''میں سفیان ثوری ہوں۔'' تو اس نے کہا:''اگر آپ اہلِ زمانہ میں اجنبی نہ ہوتے تو میں آپ کو اس کا راز نہ بتاتا ، میں اپنے والدِ گرامی کے ساتھ حجِ بیت اللہ کے ارادے سے چل پڑا۔ اثنائے سفر میرے والدِ محترم بیمار ہو گئے تومیں اپنے والدِ محترم کے علاج معالجے کے لئے رک گیا۔ علاج کے دوران ان کا انتقال ہوگیا۔ جبکہ میں ان کے سر کے قریب کھڑا تھا، ان کا چہرہ سیاہ ہو گیا۔ یہ دیکھ کرمیں نے فوراً پڑھا:'
'اِنّا ِﷲِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
ترجمۂ کنزالایمان:ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کواسی کی طرف پھرنا(۱)۔''(پ۲،البقرۃ:۱۵۶) پھر میں نے ان کے چہرے پر چادر ڈال دی۔ اچانک مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا اور میں سو گیا، میں نے ایک شخص کودیکھا کہ اس سے زیادہ حسین وجمیل میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔اس کا لباس انتہائی صاف شفاف تھااوراس سے ایسی خوشبوآ رہی
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل، سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''حدیث شریف میں ہے کہ وقت مصیبت کے
''اِنّا ِﷲِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ''
پڑھنا رحمتِ الٰہی کا سبب ہوتا ہے ۔یہ بھی حدیث میں ہے کہ مؤمن کی تکلیف کو اللہ تعالیٰ کفارۂ گناہ بناتا ہے ۔''