Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
615 - 649
تو عرض کی :''یااللہ عَزَّوَجَلَّ !کیا تو نے کسی ایسی ہستی کو بھی پیدا فرمایاہے جو تیرے نزدیک مجھ سے بھی زیادہ
معزز ہے ؟''تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے جواب ملا:''ہاں !وہ تیری اولادمیں سے ایک نبی ہے ۔'' پھر جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدَتُنا اماں حوا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پیدا فرماکرحضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ  الصلٰوۃوالسلام میں شہوت رکھی اور آپ علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ان سے نکاح کی خواہش کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:''اس کا حق مہر ادا کرو۔'' آپ علیہ الصلٰوۃ و السلام نے عرض کی :''اس کا حق مہر کیاہے ؟ ''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:''اس نام والے پر سو مرتبہ درودِ پاک بھیجو ۔ ''عرض کی :''یااللہ عَزَّوَجَلَّ !اگر میں ایسا کروں تو کیا تومیرا نکاح اس سے کر دے گا؟''تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: ''ہاں۔'' چنانچہ، حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ  الصلٰوۃوالسلام نے حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم پر سو مرتبہ درودِ پاک پڑھا اوریہ حضرتِ سیِّدَتُنا حوا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر تھا۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ علیہ  الصلٰوۃوالسلام کا نکاح حضرتِ سیِّدَتُناحوا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کر دیا۔''
 (نزھۃ المجالس،باب مناقب فاطمۃ الزھراء رضی اللہ تعالی عنھا،فصل فی تزویج حواء ۔۔۔۔۔۔ الخ،ج۲،ص۳۱۷،مفھومًا)
اونٹ بول اُٹھا:
    حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے :''ایک اعرابی اپنی اونٹنی کو مسجد کے دروازے پر باندھ کر آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر بیٹھ گیا۔ جب اس کا مقصد پورا ہو گیا تو کھڑے ہونے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ کچھ لوگوں نے عرض کی :''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !اس اعرابی کے پاس جو اونٹنی ہے، وہ چوری کی ہے۔'' نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:''تم کیا کہتے ہو؟'' وہ سر جھکاکراپنی انگلی سے زمین کریدنے لگا، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اونٹنی کو قوت گویائی عطا فرمائی تو اس نے دروازے کے پیچھے سے عر ض کی :''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بشیر و نذیر بناکر حق کے ساتھ بھیجا!اس شخص نے مجھے نہیں چرایا بلکہ مجھے کسی اور نے چرایا ہے اس نے تو قیمت دے کر مجھے اس سے خرید ا ہے، یہ مجرم نہیں ہے۔''

    نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس اعرابی سے استفسار فرمایا: ''اے اعرابی! تجھے اس ذات کی قسم جس نے تیری برا ءَ ت کے لئے اونٹنی کو قوت گویائی عطا فرمائی! یہ توبتاکہ سر جھکاکر زمین کریدتے ہوئے تو نے کیا کہا تھا؟'' اس نے عرض کی:یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! میں نے عرض کی تھی :
''اَللّٰھُمَّ لَسْتَ بِرَبٍّ اِستَحْدَثْنَاکَ وَلاَمَعَکَ شَرِیْکٌ فِیْ مُلْکِکَ اَعَانَکَ عَلٰی خَلْقِنَا اَنْتَ کَمَا تَقُوْلُ وَفَوْقَ کُلِّ مَا نَقُوْلُ، اَسْألُکَ یَا رَبِّ اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّتَبْرَئَنِیْ بِبَرَاءَ ۃٍ مِّمَّآ اَنَا فِیْہٖ
یعنی االلہ عَزَّوَجَلَّ ! تو ایسا رب عَزَّوَجَلَّ نہیں کہ جس کو ہم نے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہو، اور نہ ہی تیرے ملک میں تیرا کوئی شریک ہے جو ہماری تخلیق پر تیری اعانت کرے، بے شک تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو فرماتا ہے اور توہمارے بیان سے بھی بہت بلند ہے، یااللہ عَزَّوَجَلَّ !میں تجھ سے سوال کرتا ہو ں کہ محمدمصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور
Flag Counter