| حکایتیں اور نصیحتیں |
نبئ مُکَرّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے :''بندہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنی کسی حاجت کاسوال کرتاہے لیکن اس کے بعد مجھ پر درودِ پاک نہیں پڑھتا تو اس کی حاجت بادلوں تک بلند ہوتی ہے۔ پھر جب وہ مجھ پر درودِ پاک پڑھتا ہے تو اس کی حاجت پوری ہوجاتی ہے اور دعا بھی قبول ہوجاتی ہے اور ا س کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئيے جاتے ہیں۔''
حضور سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے:''جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پرمقرر فرشتوں کو حکم دیتاہے کہ تین دن تک اس کا کوئی(برا ) عمل نہ لکھیں۔''(المستطرف فی کل فن مستظرف،باب۸۴ فیماجاء فی فضل الصلاۃ۔۔۔۔۔۔الخ،ج۲،ص۵0۵)
مروی ہے:''جب قیامت کے دن مؤمن کی نیکیاں اور برائیاں تولی جائیں گی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے کچھ صحیفے اس کی نیکیوں والے پلڑے میں رکھے جائیں گے جس کی وجہ سے نیکیاں برائیوں پر غالب آ جائیں گی ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا:''یہ تیرا وہ درودِ پاک ہے جو تو نے محمدِمصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم پر بھیجا تھاجس کے سبب تیری نیکیوں کا وزن زیادہ ہوگیا،میں نے اس کو تیرے لئے محفوظ کر رکھا تھا۔''
حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے:''جس نے صبح و شام یہ درودِ پاک پڑھا:'' اَللّٰھُمَّ یَا رَبَّ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّاَجْزِ مُحَمَّدًاصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم مَّا ھُوَ اَھْلُہٗ'
'یعنی االلہ عَزَّوَجَلَّ ! اے(حضرت) محمد( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) اور ان کی آل کے رب عَزَّوَجَلَّ ! (حضرت)محمد( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم) اور ان کی آل پر رحمت بھیج اور(حضرت) محمد (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم) کو ان کے شایانِ شان جزائے خیر عطا فرما۔'' تو اس نے اعمال لکھنے والے فرشتوں کو ایک ہزار صبح تک (اس کا اجر لکھنے ) پر لگا دیا۔
(نزہۃ المجالس، باب فضل الصلاۃ والتسلیم۔۔۔۔۔۔الخ،ج۲،ص۲۔۱۸۱،المعجم الکبیر، الحدیث۱۱۵0۹، ج ۱۱، ص۱۶۵، باختصارٍ)
اوراس نے اپنے نبی کا حق ادا کیا، اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی اوراس کے والدین کی مغفرت فرمائے اور (حضرت) محمد(صلَّی اللہ تعا لیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم) اور آلِ محمد (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم)کے ساتھ اس کا حشر فرمائے۔''(آمین)
حضرتِ سیِّدَتُنا حوا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا حق مہر:
حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منَبِّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا آدم صفی اللہ علیہ الصلٰوۃ و السلام کو پیدا فرمایا اور ان میں روح پھونکی اور انہوں نے اپنی نگاہیں کھولیں تو جنت کے دروازے پر یہ لکھا ہوا دیکھا
،'' لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ۔''