| حکایتیں اور نصیحتیں |
،(پھر فرمایا:)میں حسن و حسین سے محبت کرتاہوں تو میں نے پھر سجدۂ شکر اداکیا۔''
حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے حق میں سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' اگر ابوبکر کا ایمان اہلِ زمین کے ایمان کے ساتھ تولا جائے تو ابو بکر کا ایمان ان سب پر بھاری ہو جائے ۔''(شعب الایمان للبیھقی،باب القول فی زیادۃ الایمان۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۳۶،ج۱،ص۶۹،راوی عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ)
حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے حق میں سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' علی قیامت کے دن اپنی اولاد اور زوجہ کے ساتھ اونٹوں کی سواریوں پرسوار ہو کر آئیں گے، لوگ پوچھیں گے :''یہ کون سے نبی ہیں؟''تو ایک منادی ندا کریگا:''یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دوست علی بن ابی طالب ہے۔''
حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے حق میں نبئ کریم، ر ء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' کل بروزِ قیامت اہلِ محشر جنت کے آٹھوں دروازوں سے یہ آواز سنیں گے :''اے صدیق اکبر! جس دروازے سے چاہو (جنت میں) داخل ہوجاؤ۔''
حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے حق میں اللہ کے پیارے حبیب ،حبیب لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''(جنت میں)میرے اورحضرتِ ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے محل کے درمیان علی بن ابی طالب کا محل ہے۔''
حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے حق میں حضور پرنور، شافعِ یومُ النشور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''آسمان والے مقرّبینِ بارگاہِ الٰہی، نوری فرشتے اور ملأاعلیٰ روزانہ ابوبکر صدیق کا دیدار کرتے ہیں۔''
حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کی شان میں اور جس کے گھر والوں کی شان میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:(3) وَ یُطْعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿8﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور کھاناکھلاتے ہیں اس کی محبت پرمسکین اور یتیم اور اسیر کو۔(۱)(پ29،الدھر :8)
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر