Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
605 - 649
    حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا:میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کی شان 

اللہ عَزَّوَجَلَّ یوں بیان فرماتا ہے:
(4) وَالَّذِیۡ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوۡنَ ﴿33﴾
ترجمہ کنزالایمان:اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں۔(پ24،الزمر:33)

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حضرتِ سیِّدُنا جبرائیلِ امین علیہ الصلٰوۃوالسلام نے حضور نبئ پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی :''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتاہے کہ ساتوں آسمانوں کے ملائکہ اس وقت ابو بکر صدیق اور علی المرتضیٰ کی طرف دیکھ رہے ہیں اور ان کے مابین ہونے والے حسنِ جواب اور حسنِ ادب کو سماعت کر رہے ہیں، آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم ان کے پاس تشریف لے جایئے اور تیسرے فرد ہو جائیے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا و رحمت نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے،اور ان کے ساتھ حسنِ ادب اور حسنِ اسلام و ایمان کو خاص کر دیا ہے۔ چنانچہ، حضور نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم ان دونوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو ویسے ہی پایا جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا جبرائیلِ امین علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بیان کیا تھاپھر آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دونوں کے چہروں کو بوسۂ رحمت سے نوازا اور ارشاد فرمایا : ''اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر تمام سمندر سیاہی ہو جائیں، تمام درخت قلم بن جائیں، آسمان وزمین والے کتاب بن جائیں تو بھی تمہارے فضل ومرتبہ اور تمہارے اجر وثواب کو لکھنے سے عاجز آ جائیں گے۔''
انسانی چہرے والا جانور:
    حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں :''میں نے مکۂ مکرمہ میں ایک نصرانی کوطواف کرتے ہوئے دیکھا جو اسقف کے نام سے مشہور تھا، میں نے پوچھا:''کس چیز نے تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے دین سے منحرف کیا؟'' اس نے کہا:''میں نے اس سے بہتر چیز اختیار کی۔''میں نے پوچھا:''یہ سب کیسے ہوا؟''تواس نے اپنا واقعہ بیان کیا:''میں سمندر میں
بقیہ۔۔۔۔۔۔ کے تحت فرماتے ہیں: ''یعنی ایسی حالت میں جبکہ خود انہیں کھانے کی حاجت و خواہش ہو اور بعض مفسّرین نے اس کے یہ معنٰی لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبّت میں کھلاتے ہیں۔ شانِ نزول: یہ آیت حضرتِ علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کی کنیز فِضَّہ کے حق میں نازل ہوئی ۔حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیمار ہوئے۔ ان حضرات نے اُن کی صحت پر تین روزوں کی نذر مانی۔ اللہ تعالیٰ نے صحت دی ۔نذر کی وفا کا وقت آیا۔ سب صاحبوں نے روزے رکھے۔ حضرتِ علی مرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ایک یہودی سے تین صاع (صاع ایک پیمانہ ہے) جَو لائے۔ حضرتِ خاتون ِ جنّت نے ایک ایک صاع تینوں دن پکایا لیکن جب افطار کا وقت آیا اور روٹیاں سامنے رکھیں تو ایک روز مسکین، ایک روز یتیم، ایک روز اسیر(قیدی) آیا اور تینوں روز یہ سب روٹیاں ان لوگوں کو دے دی گئیں اور صرف پانی سے افطار کرکے اگلا روزہ رکھ لیا گیا۔''
Flag Counter