Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
603 - 649
    حضرت سیِّدُنا عثمانِ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں آپ سے آگے نہیں بڑھوں گا کیونکہ میں نے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ دعا فرماتے سنا کہ ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔'' اور رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے آپ کانام فاروق رکھا۔اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ذریعے حق وباطل کے درمیان فرق کیا۔''
 (سنن ابن ماجۃ،کتاب السنۃ، باب فضل عمررضی اللہ عنہ،الحدیث۱0۵،ص۲۴۸۳۔ الطبقات الکبرٰی لابن سعد، الرقم ۵۶،اسلام عمر،ج۳،ص۲0۵)
    اس واقعہ کی خبر جب حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو ہوئی تو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے دونوں کے لئے دعا فرمائی اور ایک دوسرے سے حسنِ ادب کے ساتھ پیش آنے پر ان کی تعریف فرمائی۔

    حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، ایک دن حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مولیٰ مشکل کشاحضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے حجرۂ اقدس کے پاس حاضر ہوئے۔ حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی :''آپ آگے بڑھ کر دروازے پر دستک دیں اور اسے کھولنے کی دیرینہ التجا کریں۔'' حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے علی! آپ آگے بڑھئے۔''

    حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے متعلق میں نے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ''میرے بعد کسی ایسے شخص پرسورج طلوع وغروب نہ ہوگا جو ابوبکر صدیق سے افضل ہو۔''
 (الثقات لابن حبان، کتاب اتباع التابعین ،الرقم۲۶۸۹عبد الملک بن عبدالعزیز،ج۴،ص۵۷) 

(حلیہ الاولیاء،عطاء بن ابی رباح ، الحدیث ۴۳۱۵،ج۳،ص۳۷۳)
    حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے متعلق آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''میں نے سب سے بہترین خاتون(یعنی حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا)سب سے بہترین مرد (یعنی حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کو عطا کی۔''

    حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: ''میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے حق میں حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''جوحضرتِ ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلٰوۃوالسلام کے سینۂ مبارکہ کو دیکھنا چاہے وہ ابوبکر صدیق کا سینہ دیکھ لے ۔''

    حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کی شان میں حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جوحضرتِ آدم علیہ الصلٰوۃوالسلام، حضرتِ یوسف علیہ الصلٰوۃوالسلام اور ان کا حُسن ، حضرتِ موسیٰ علیہ الصلٰوۃوالسلام اور ان کی نماز،حضرتِ عیسیٰ علیہ الصلٰوۃوالسلام اور ان کا زہد اور مجھے اور
میری صورت دیکھنا چاہے و ہ علی کو دیکھ لے۔''

    حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:''میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے حق میں نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' جب قیامت کی گھڑیوں میں حسرت وندامت کے دن تمام مخلوق جمع ہوگی تو حق تعالیٰ کی طرف سے ایک منادی ندا کر ے گا:''اے ابوبکر !تم اور تم سے محبت کرنے والے جنت میں داخل ہو جائیں۔''

    حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کی طرف غزوہ حنین اور غزوۂ خیبر کے دن نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر َ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کھجور اور دودھ ہدیۃً بھیجااور ارشاد فرمایا: ''یہ فتح ونصرت کے طالب کی طرف سے علی بن ابی طالب کی طرف ہدیہ ہے۔''

     حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:''میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے حق میں سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اے ابو بکر! تم میری آنکھ (کی ٹھنڈک ) ہو ۔ ''

    حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے حق میں تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''علی جنت کی سواریوں میں سے کسی سواری پر آئیں گے، اور ایک منادی ندا کریگا:''اے محمد(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم) ! دُنیامیں اپ کا حسین والد اور خوبصورت بھائی تھا، حسین والدحضرتِ ابراہیم خلیل اللہ ہیں اور خوب صورت بھائی حضرتِ علی ہیں۔''

    حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے حق میں اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جب قیامت کادن ہوگاتو داروغۂ جنت حضرتِ رضوان جنت اور جہنم کی چابیاں لائے گااور کہے گا:''اے ابوبکر!اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو سلام کہتاہے اور فرماتاہے کہ یہ جنت و دوزخ کی چابیاں ہیں جسے چاہو جنت میں بھیج دو اور جسے چاہو جہنم میں بھیج دو۔'' 

    حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جس کے حق میں حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''حضرتِ جبرائیل میرے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: ''یارسول اللہ! اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو سلام کہتاہے اور فرماتاہے کہ میں آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم سے اور علی سے محبت کرتا ہوں تو میں نے سجدۂ شکر ادا کیا، (پھر فرمایا:)میں فاطمہ سے محبت کرتاہوں تومیں نے پھر سجدۂ شکر ادا کیا
Flag Counter