(پھر فرمایا:) اے گروۂ مسلمین !ان تمام کی محبت مؤمن کے دل میں ہی اکٹھی ہو سکتی ہے اورمنافق کے دل میں یکجا نہیں ہو سکتی۔ جوان کومحبوب بنالے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کومحبوب بنالیتاہے اور جو ان سے بغض رکھے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے ناپسند فرماتا ہے۔''
حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، ایک دن حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''میں جنت میں داخل ہوا۔ اسی دوران جبکہ میں اس کے باغوں ،نہروں اور درختوں کے گرد گھوم رہاتھا کہ میرا ہاتھ ایک پھل سے مس ہوا، میں نے اسے پکڑا تو وہ میرے ہاتھ میں چار ٹکڑوں میں بٹ گیا، ہر ٹکڑے سے ایک حور نکلی، اگروہ اپنا ایک ناخن ظاہر کردے تو تمام زمین و آسمان والوں کو فتنے میں مبتلا کردے،اور اگراپنی ایک ہتھیلی ظاہر کر دے تواس کی روشنی سورج اور چاند کی روشنی پر غالب آجائے ،اگر وہ تبسم کرے تو اپنی خوشبو سے زمین وآسمان کی درمیانی جگہ کو کستوری سے بھر دے ، میں نے پہلی سے پوچھا:''تم کس کے لئے ہو؟'' بولی :''حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ۔'' میں نے اسے حکم دیا:''تم اپنے شوہرکے محل کی طرف جاؤ۔'' تو وہ چلی گئی۔ دوسری سے پوچھااس نے کہا:'' میں حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ہوں۔''اسے بھی میں نے حکم دیا کہ تم اپنے خاوند کے محل میں چلی جاؤ۔'' تو وہ بھی چلی گئی۔ تیسری سے بھی پوچھا:اس نے جواب دیا:''خون سے لت پت ظلماً شہید کئے ہوئے ، حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے۔''اسے بھی میں نے اپنے خاوند کے محل کی طرف جانے کاحکم دیاوہ بھی چلی گئی۔ چوتھی سے سوال کیاتووہ کچھ دیر خاموش رہی پھراس نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حُسن پر پیدا کیا اور میرا نام ان کے نام پر رکھا اور حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ان کے ساتھ نکاح ہونے سے دو ہزار سال قبل اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے میرا نکاح کر دیا تھا۔''یہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے خلفاء راشدین ، انصار اور صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں، انہیں بروزِ قیامت عزت والے گھریعنی جنت کی طرف احترام واکرام کے ساتھ لے جایا جائے گا۔
منقول ہے، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکارِ والاتَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے کسی کام میں مشغول تھے کہ نمازِ عصر کاوقت ہوگیا۔حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آگے بڑھ کر امامت کرانے کا