Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
599 - 649
     امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ نبئ رحمت، شفیعِ امت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ حق نشان ہے :''بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پر ابوبکر،عمر ،عثمان اورعلی کی محبت کو فرض کر دیا ہے، جیسے نماز ،روزہ ، زکوٰۃ اور حج کو تم پر فرض کیا ہے تو جو ان میں سے کسی ایک سے بھی بغض رکھے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی نمازقبول فرمائے گا، نہ زکوٰۃ،نہ روزہ اورنہ ہی حج۔ اور اسے قبرسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔''
(فردوس الاخبارللدیلمی،باب الالف،الحدیث۶۱۹،ج ۱،ص۱0۱)
خلفاء ِ راشدین علیہم الرضوان کی عظمت و شان:
    حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے: ''میرے حوض کے چار کونے ہیں: پہلے کونے پر ابوبکر ،دوسرے پرعمر ، تیسرے پر عثمان اور چوتھے پر علی ہوں گے ۔ جو ابوبکر سے محبت کرے اور عمر سے بغض رکھے اس کو ابوبکر سیراب نہیں کریں گے اور جو عمر سے محبت رکھے اور عثمان سے بغض رکھے اس کو عمرسیراب نہیں کریں گے اور جو عثمان سے محبت کرے اور علی سے بغض رکھے اس کو عثمان حوض سے نہیں پلائیں گے اور جو علی سے محبت کرے مگر عثمان سے بغض رکھے اس کو علی سیراب نہیں کریں گے تو جس نے ابوبکر سے محبت کی اس نے دین کو قائم کیااور جس نے عمر سے محبت کی وہ ایمان والوں میں لکھا جائے گا،اور جس نے عثمان سے محبت کی وہ نورِ مبین سے منور ہوا اور جس نے علی سے محبت کی تواس نے بھلائی کا کام کیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ بھلائی کرنے والوں کو پسند فرماتاہے۔اور جس نے ان تمام کے متعلق حسنِ ظن رکھا وہ مؤمن ہے اور جو بد گمانی کرے وہ منافق ہے۔''
(الثقات لابن حبان، کتاب من روی عن اتباع التابعین ،الرقم۳۳۱0،محمد بن مقاتل العبادانی،ج۵، ص۴۴۹۔العلل المتناہیۃ لابن الجوزی، حدیث فی فضل الاربعۃ، الحدیث۴0۸،ج۱،ص۲۵۴)
    حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''ہم حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اجتماعِ پاک میں بیٹھے ہوئے تھے توحضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہوئے،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے استقبال کرتے ہوئے فرمایا:''اپنے مال کے ساتھ غمگساری کرنے والے اور دوسروں کوخود پرترجیح دینے والے کو خوش آمدید!'' پھرحضرتِ سیِّدُنا عمر فارو ق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضرِخدمت ہوئے تو ارشاد فرمایا:''حق وباطل کے درمیان فرق کرنے والے کو مرحبا! اس شخص کو خوش آمدید جس کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دین کو کامل کیا اور مسلمانوں کو عزت بخشی ۔''پھرحضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا: ''میرے داماد اور میری دوبیٹیوں کے شوہر کو خوش آمدید! جس میں میرا نور جمع ہوا، جو اپنی زندگی میں سعادت مند اور موت میں شہید ہے، اس کے قاتل کے لئے نارِجہنم کی بربادی ہے ۔'' پھرحضرتِ سیِّدُنا علی
Flag Counter