| حکایتیں اور نصیحتیں |
کہاتو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:''آپ اس کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں کہ رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے آپ کو مقدّم فرمایااور آپ کی تعریف کی ۔''
حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں آپ سے آگے نہیں بڑھوں گا کیونکہ میں نے سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ ارشاد فرماتے سنا :''عثمان کتنااچھاانسان ہے، میرا داماد ہے اور میری دوبیٹیوں کا شوہر ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس میں میرا نور اکٹھاکر دیاہے۔''
حضرتِ سیِّدُنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں آپ سے آگے نہیں بڑھوں گا کیونکہ میں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے عمرکے ذریعہ اسلام کو مکمل فرمایا۔''(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ،مناقب امیر المؤمنین عمر،فصل تاسع،جزء ثانی،ج ۱، ص ۳۱۳ ''اکمل''بدلہ''اعز'')
حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں آپ سے آگے نہیں بڑھوں گا کیونکہ میں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو یہ فرماتے سناہے کہ '' عثمان سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔''
(صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب من فضائل عثمان بن عفان،الحدیث۲۴0۱ ، ص0 ۱۱0)
حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں آپ سے آگے نہیں بڑھوں گا کیونکہ میں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو یہ فرماتے سناہے کہ'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے عمرکے ذریعے دین کی تکمیل فرمائی اور مسلمانوں کوعزت بخشی۔''
(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ،مناقب امیر المؤمنین عمر،فصل تاسع،جزء ثانی،ج ۱، ص ۳۱۳''اکمل''بدلہ''اعز'')
حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں آپ سے آگے نہیں بڑھوں گا کیونکہ میں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو یہ فرماتے سناہے کہ ''عثمان قرآن پاک کو جمع کریگا،اور یہ رحمن عَزَّوَجَلَّ کامحبوب ہے۔''
(المستدرک،کتاب التفسیر،باب جمع القرآن لم یکن مرۃ واحدۃ،ج۲ص۶0۳،مفھوماً)
حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں آپ سے آگے نہیں بڑھوں گا کیونکہ میں نے حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ'' عمر کتنا اچھا انسان ہے، بیواؤں اور یتیموں کی خبرگیری کرتاہے، اُن کے لئے اس وقت کھانا لاتاہے جب لوگ عالَمِ خواب میں ہوتے ہیں۔''
(جامع الترمذی،ابواب المناقب،باب مناقب معاذ بن جبل،الحدیث۳۷۹۵،ص ۲0۴۲،مختصرًا)
حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں آپ سے آگے نہیں بڑھوں گا کیونکہ میں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ فرماتے سناہے کہ'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جیشُ العُسرہ (یعنی غزوۂ تبوک کا لشکر) تیار کرنے والے عثمان کی مغفرت فرمادی ہے۔''
(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی،الرقم۱۶۹اسحاق بن ابراھیم ، ج۱،ص۵۵۳،بتغیرٍ)