| حکایتیں اور نصیحتیں |
حضورنبئ کریم، رءُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے : ''ان چار کی محبت سوائے مؤمن کے کسی کے دل میں جمع نہ ہو گی:(۱)۔۔۔۔۔۔حضر تِ ابو بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ (۲)۔۔۔۔۔۔حضرتِ عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۳)۔۔۔۔۔۔حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور(۴)۔۔۔۔۔۔حضرتِ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔''
(حلیۃ الاولیاء،عطاء بن میسرۃ، الحدیث ۶۹۳۶، ج۵، ص ۲۳0)
حضور نبئ پاک، صاحبِ لولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے: ''میں قیامت کے دن اس حال میں آؤں گاکہ میری دائیں جانب ابوبکر صدیق، بائیں جانب عمر فاروق،پیچھے عثمان غنی اورمیرے سامنے علی بن ابی طالب (رضی اللہ تعالیٰ عنہم )ہوں گے اور علی کے پاس لواء الحمد ہو گا، اس پر دو کپڑے کے ٹکڑے ہوں گے؛ ایک سندس کا اور دوسرا استبرق کا۔''ایک اعرابی نے کھڑے ہو کرعرض کی : ''میرے ماں باپ آپ پر قربان!کیاحضرتِ سیِّدُنا علی لِوَآءُ الْحَمْد کو اٹھا سکیں گے؟'' ارشاد فرمایا: ''کیوں نہیں اٹھا سکیں گے کہ ان کو بہت سی خوبیاں عطا کی گئیں ہیں:میرے صبر جیسا صبر، حضرتِ یوسف علیہ السلام جیسا حُسن اور حضرتِ جبرائیل علیہ السلام جیسی قوت عطا ہوئی۔لِوَآءُ الْحَمْد علی بن ابی طالب کے ہاتھ میں ہو گا اور اس دن تمام مخلوق میرے لوائ(یعنی جھنڈے) کے نیچے ہو گی۔''
حضرتِ سیِّدُنا علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے ،تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنی بیٹی میری زوجیت میں دی، مجھے اپنی اونٹنی پر سوار کرکے مدینہ پاک لے گئے اور بلال کواپنے مال سے آزاد کیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم فرمائے ،وہ حق بولتے ہیں اگرچہ کڑوا ہو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم فرمائے ،ملائکہ ان سے حیا کرتے ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم فرمائے، یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاں چلے حق کو اس کے ساتھ چلا دے ۔''(جامع التر مذی،ابواب المناقب،باب مناقب علی۔۔۔۔۔۔الخ الحدیث۳۷۱۴،ص۲0۳۴)
مروی ہے ، اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا:''اے ابوبکر !اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے نور کے جوہر سے پیدا فرمایا،پس اس جوہر پر نظرِ کرم فرمائی اور مجھے اپنی بارگاہ میں کھڑا کیا تومجھے حیا سے پسینہ آگیااورپسینے کے چار قطرے گر پڑے۔اے ابوبکر! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے پہلے قطرے سے تمہیں پیدا فرمایا، دوسرے سے عمر کو ، تیسرے سے عثمان کو اورچوتھے سے علی کوپیدا فرمایا، اے ابوبکر! تیرا، عمر، عثمان اور علی کا نور میرے نور سے ہے۔''
حضور سید الانبیاء والمرسلین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں: ''بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میرے صحابۂ کرام کو تمام مخلوق پر فضیلت دی سوائے انبیاء و مرسلین کے ،پھر میرے صحابہ میں سے چار کو فضیلت دی: ابو بکر ،عمر ،عثمان اور علی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔''(المجروحین لابن حبان،الرقم۵۶۸عبد اللہ بن صالح کاتب اللیث المصری،ج۱،ص۵۳۵)