Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
597 - 649
منتخب نبی اور مختار رسول بناکربرتری وبرگزیدگی عطا فرمائی ۔۔۔۔۔۔،حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خاص فرماکر تصدیق اور وقار وہیبت کی خصوصیت سے نوازا۔۔۔۔۔۔، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودرست رائے کے لئے دوسروں سے ممتاز فرمایا پس شہریوں اور دیہاتیوں کے لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکرباعثِ حلاوت اورپاکیزگی ہے ۔۔۔۔۔۔،حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوقرآن پاک جمع کرنے کے واسطے اپنے قرب ومعیت کے لئے منتخب فرمایاپس انہوں نے قرآنِ پاک کوچھ یا سات نسخوں میں جمع کروادیا۔۔۔۔۔۔، اورحضرتِ سیِّدُنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کولشکروں کے منتشرکرنے،عجائبات کو ظاہر کرنے اور ذوالفقار (یعنی تلوارِحیدری) کے عدل وانصاف کوعام کرنے کے لئے پسندفرمایا۔یہی وہ ہستیاں ہیں جن کے حق میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے حبیب ،حبیبِ لبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی زبانِ اقدس پر یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی:
 (2) مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ
ترجمۂ کنزالایمان:محمد اللہ کے رسول ہیں اور ا ن کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں۔(پ26،الفتح:29)

    چنانچہ، حضرتِ سیِّدُنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ غارمیں حضورنبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے رفیق ہیں ۔۔۔۔۔۔، 

حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسرارِالٰہی پر آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے وزیروامین ہیں۔۔۔۔۔۔،حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دشمن کے ہاتھوں مقتول اوراپنے گھر میں شہیدہونے والے ہیں۔۔۔۔۔۔،اور حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے چچا کے بیٹے،آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے علم کے وارث اوردشمنوں پرپلٹ پلٹ کر حملہ کرنے والے شہسوارہیں۔۔۔۔۔۔،یہی وہ مقدس ہستیاں ہیں جوسیدِعالم ،نورِمجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلَّم کے خلفاء ،وزراء اورنیک سیرت پیشوایانِ اُمت ہیں۔۔۔۔۔۔،انہوں نے حضورنبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم سے اپنے عہد کو پورا کیا ۔۔۔۔۔۔،اورانہی کی سعادت مندیوں کے سبب دینی اَقداربامِ عروج پرپہنچیں۔۔۔۔۔۔،اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے جوچاہااورپسندفرمایا ،انہوں نے اس پر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی مکمل پیروی اوربیعت کی۔

    حضرتِ سیِّدُنا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضور سراپا نور،شافعِ یوم النشور،فیض گنجور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ''جس نے میرے کسی صحابی کو خوش کیا اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو خوش کیااور جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو خوش کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے کہ وہ اسے خوش کرکے جنت میں داخل فرما دے۔''
بقیہ حاشیہ۔۔۔۔۔۔ عروہ بن مسعود ثقفی کو مُراد لیتا تھا۔ اس کے جواب میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ رسولوں کا بھیجنا ان لوگوں کے اختیار سے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، اپنی حکمت وہی جانتا ہے، انہیں اس کی مرضی میں دخل کی کیا مجال۔''
Flag Counter