Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
596 - 649
بیان53:                مناقبِ خلفاء راشدین
 (حضرت سیِّدُناابوبکرصدیق، حضرت سیِّدُناعمر فاروق،حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی اورحضرت سیِّدُنا علی المرتضی علیہم الرضوان کے فضائل)
    سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جومہربان، گناہوں کومٹانے والا،حلم والااوربرائیوں پرپردہ ڈالنے والاہے ۔ رات کو دن میں داخل فرمانے والا ہے۔ہرچیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے۔ اس کے فیصلوں میں عقول واذہان حیرت زدہ ہیں۔اہلِ بصیرت اورنگاہِ عبرت والے اس کی شانِ ابدیت (یعنی ہمیشہ رہنے والی صفت ) کے میدان میں ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے ہیں۔ وہ اپنی بلندعزت واقتدارسے جابر بادشاہوں پرغالب ہے ۔ و ہی واحدو قہار ہے۔اس نے اپنی غالب قوت سے شاہانِ فارس (یعنی ایران کے بادشاہوں)کی شان وشوکت اورقوتِ اقتدار کوٹکڑے ٹکڑے کر دیا،پس وہی عظمت والازبردست ہے۔ اسی نے کائنات کو وجود بخشااورزمانے کی تدبیرفرمائی ۔کسی بھی مددگاراورمعاون کا محتاج نہیں ۔کوئی اس کی قدرت میں برابری نہیں کر سکتا اور اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔اس کا احسان ہرجگہ اورجمیع اطرافِ عالم کوشامل ہے یعنی ہرایک پراحسان ہے۔ وہ اندھیری رات میں سیاہ چیونٹی کے قدموں کی آوازکو جانتا ہے۔ زمین وآسمان اور سمندروں کی گہرائی میں موجودکوئی شئے بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔بندے کے اُلَٹ پَلَٹ ہوتے وقت بھی اس کے دل کی بات جانتا اوراس کے ارادہ وطلب کے وقت بھی اس کے دل پرمطلع ہوتاہے ۔چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے:
''سَوَآءٌ مِّنۡکُمۡ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنۡ جَہَرَ بِہٖ وَمَنْ ہُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیۡلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّہَارِ ﴿۱۰﴾
ترجمۂ کنزالایمان:برابر ہیں جو تم میں بات آہستہ کہے اور جو آواز سے اور جو رات میں چھپا ہے اور جو دن میں راہ چلتا ہے۔''(پ۱۳،الرعد:۱0)

    پاک ہے وہ معبودجو اپنے بندوں میں سے جسے چاہتاہے برتری وبرگزیدگی عطافرماتا ہے۔جسے چاہتاہے اپنے لئے خاص فرماتاہے۔ جسے چاہتا ہے دوسروں سے ممتازکردیتاہے ۔ جسے چاہتاہے اپنے قرب ومعیت کے لئے منتخب فرماتاہے اور جسے چاہتاہے پسندفرماتاہے۔اسی کاارشادِعالی ہے:
'' وَ رَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارا رب پیدا کرتاہے جوچاہے اور پسند فرماتا ہے۔''(۱) (پ۲0،القصص:۶۸)                                                                                ۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔اس نے حضرتِ سیدنامحمد ِمصطفی،احمد ِمجتبی ٰصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو اپنا
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''شانِ نزول: یہ آیت مشرکین کے جواب میں نازل ہوئی۔ جنہوں نے کہا تھا کہ''اللہ تعالیٰ نے حضرتِ محمد صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کو نبوّت کے لئے کیوں برگزیدہ کیا۔ یہ قرآن مکّہ و طائف کے کِسی بڑے شخص پر کیوں نہ اُتارا۔ اس کلام کا قائل ولید بن مغیرہ تھا اور بڑے آدمی سے وہ اپنے آپ کواور۔۔۔۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر
حمد ِ باری تعالیٰ
Flag Counter