Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
592 - 649
   نہیں آ سکتا ۔''
 (صحیح البخاری،کتاب التعبیر،باب من رای النبی فی المنام،الحدیث۶۹۹۴،ص ۵۸۴)
    پھر مجھے ندا کی گئی: ''اے عبداللہ! جو بھی میری قبر کی زیارت کریگا اس کو بخش دیا جا ئے گااور کل بروزِقیامت میں اس کی شفاعت کروں گا۔''

    حضرتِ سیِّدُناابو الفضل محمد بن نعیم علیہ رحمۃاللہ الرحیم فرماتے ہیں: ''حضرتِ سیِّدُنا محمد بن یعلٰی کنانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کثرت سے نبئ رحمت، شفیع اُمّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی قبرِ انور کی زیارت کیا کرتے تھے، اور آپ کو اکثر خواب میں نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کادیدار بھی ہو جاتا۔ایک دن زیارتِ قبرِ اطہر کے قصد سے نکلے لیکن پاؤں میں چوٹ لگنے کے سبب زیارت سے محروم ہوگئے ، حج کرنے والے جا رہے تھے ،آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ایک رقعہ لکھ کر کسی حاجی کو دیا اور فرمایا:''جب تم مزارِ اقدس پر پہنچو تو میرا یہ رقعہ مزار شریف کے قریب رکھ کرعرض کرنا :''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کنانی آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بارگاہ میں سلام عرض کرتے ہوئے عرض گزار ہے کہ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم جانتے ہیں کہ کنانی کو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی زیارت سے کس چیز نے روک رکھا ہے ؟''چنانچہ، جب اس شخص نے ایسا کیا تو حضرتِ سیِّدُنا کنانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو خواب میں حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی زیارت ہوئی۔ سرکارِ عالی وقار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اے کنانی! تمہارا خط پہنچ گیاہے اور ہم نے تمہارا عذر بھی قبول کر لیا ہے۔''

    حضرتِ سیِّدُنا عتبی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں:''میں آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قبرِانور کے پاس بیٹھا ہواتھا کہ ایک اعرابی کو اونٹ پر آتے دیکھا۔ اونٹ سے اُتر کروہ نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے مزار پرانوار پر حاضر ہوا اور یوں عرض گزار ہوا:
''اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّمَ! اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفْوَۃَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّمَ!
یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم! آپ پر سلام ہو،اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پسندیدہ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم ! آپ پر سلام ہو۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم پر یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی ہے:
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿64﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ 

    اورمیں نے اپنی جان پرظلم کیاہے، اب میں آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوں اور اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتاہوں،آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں میری شفاعت فرمائیں۔'' حضرتِ سیِّدُنا عتبی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں:''مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا اور مجھے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا دیدار نصیب ہوا توآپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے
Flag Counter