حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن صوفی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''حضرتِ سیِّدُنا حاتمِ اصم علیہ رحمۃاللہ الاکرم نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے روضۂ انورپر کھڑے ہو کر عرض کی :''اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ ! ہم نے تیرے حبیب ِکریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی قبرِ اطہر کی زیارت کی اب تو ہمیں نامراد نہ لوٹا۔ آواز آئی: ''اے بندے!ہم نے تجھے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی قبرِ اقدس کی زیارت کی اجازت ہی تب دی جب تجھے پاک کر دیا۔اب تم اور تمہارے ساتھ زیارت کرنے والے مغفرت یافتہ لوٹ جاؤ،بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ سے اور اس سے راضی ہو گیا جس نے اس کے پیارے نبی محمدصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی قبرِ اقدس کی زیارت کی۔''
حضرتِ سیِّدُنا ابوالفضل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے: ''ایک اعرابی نے حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے روضۂ مطہرہ پر حاضر ہو کر عرض کی : ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو نے اپنے محبوب بندوں کے مزارات کے پاس غلا م آزاد کرنے کا حکم دیا ہے، یہ تیرے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا مزار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ پس تو مجھے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی قبرِ مبارک کے قرب کی وجہ سے نارِ دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا فرما دے۔''ہاتف ِ غیبی کی آواز آئی: ''تُو نے صرف اپنے لئے جہنم سے آزادی کا سوال کیا،تمام مخلوق کے لئے کیوں نہیں کیاتاکہ میں ان سب کو اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی قبرِ پاک کے صدقے نارِ جہنم سے آزاد کر دیتا؟ اے اعرابی !جا، ہم نے تجھے آزاد کر دیا۔''