Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
591 - 649
وآ لہ وسلَّم مجھے رب تعالیٰ سے بخشوائیں ۔'' قبرِ اقدس کے اندر سے ندا آئی :''اے شخص ! تجھے بخش دیا گیا۔''
(تفسیرالقر طبی، سورۃ النساء،تحت الایۃ۶۴،الجزء الخامس تحت ج۳،ص۱۸۴)
    حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن صوفی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''حضرتِ سیِّدُنا حاتمِ اصم علیہ رحمۃاللہ الاکرم نے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے روضۂ انورپر کھڑے ہو کر عرض کی :''اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ ! ہم نے تیرے حبیب ِکریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی قبرِ اطہر کی زیارت کی اب تو ہمیں نامراد نہ لوٹا۔ آواز آئی: ''اے بندے!ہم نے تجھے اپنے محبوب صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی قبرِ اقدس کی زیارت کی اجازت ہی تب دی جب تجھے پاک کر دیا۔اب تم اور تمہارے ساتھ زیارت کرنے والے مغفرت یافتہ لوٹ جاؤ،بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ سے اور اس سے راضی ہو گیا جس نے اس کے پیارے نبی محمدصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی قبرِ اقدس کی زیارت کی۔''

    حضرتِ سیِّدُنا ابوالفضل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے: ''ایک اعرابی نے حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے روضۂ مطہرہ پر حاضر ہو کر عرض کی : ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو نے اپنے محبوب بندوں کے مزارات کے پاس غلا م آزاد کرنے کا حکم دیا ہے، یہ تیرے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا مزار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ پس تو مجھے اپنے محبوب صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی قبرِ مبارک کے قرب کی وجہ سے نارِ دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا فرما دے۔''ہاتف ِ غیبی کی آواز آئی: ''تُو نے صرف اپنے لئے جہنم سے آزادی کا سوال کیا،تمام مخلوق کے لئے کیوں نہیں کیاتاکہ میں ان سب کو اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی قبرِ پاک کے صدقے نارِ جہنم سے آزاد کر دیتا؟ اے اعرابی !جا، ہم نے تجھے آزاد کر دیا۔''
سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے روٹی عطا فرمائی:
    حضرتِ سیِّدُنا ابو عبداللہ محمد بن علاء علیہ رحمۃ ربِّ العُلٰی فرماتے ہیں :''میں نے مدینہ شریف میں حاضری دی ،مجھ پر بھوک کا غلبہ تھا ،حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم اور شیخینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے مزارِ پاک کی زیارت کی اور سلام کیا،پھر عرض کی: ''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !میں آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہواہوں، بھوک اور فاقہ سے میری حالت ایسی ہوچکی ہے جس کو سوائے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کوئی نہیں جانتا،میں اس رات آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کامہمان ہوں۔'' پھر مجھ پر نیند غالب ہوئی۔خواب میں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کی زیارت ہوئی۔ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے مجھے روٹی عنایت فرمائی۔ میں نے نصف روٹی کھا لی جب بیدار ہوا تو روٹی کا آدھا ٹکڑا میرے ہاتھ میں تھا۔ میں نے جان لیا کہ نبئ پاک،صاحبِ لولاک،سیَّاحِ افلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا یہ فرمانِ عالیشان حق ہے:''جس نے خواب میں میری زیارت کی اس نے حقیقت میں میری ہی زیارت کی کہ شیطان میری صورت میں
Flag Counter