| حکایتیں اور نصیحتیں |
اللہ کے حبیب، حبیب ِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے: ''جو میری وفات کے بعد میری زیارت کریگا اور مجھ پر سلام بھیجے گا تو میں جواب میں دس بار اس پر سلام بھیجوں گا اور دس فرشتے اس کی زیارت کریں گے اور وہ سب اس پرسلام بھیجیں گے اور جو اپنے گھر میں مجھ پر سلام بھیجے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ میں روح لوٹا دے گا یہاں تک کہ میں اس پر سلام بھیجوں گا۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب المناسک،باب زیارۃ القبور،الحدیث۲0۴۱،ص۱۳۷۳،مختصر)
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے ، شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ عالیشان ہے:''جس نے میری وفات کے بعد حج کیا اور میری قبرِ مبارک کی زیارت کی گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی ۔''
(سنن الدارقطنی،کتاب الحج ،باب المواقیت،الحدیث۲۶۶۷،ج۲،ص۳۵۱)
اَعرابی کو نوید ِ بخشش مل گئی :
امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبئ پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تدفین کے تین دن بعد ایک اعرابی آیا اور اس نے اپنے آپ کو قبرِ اقدس پر گرا دیا اور روضہ شریفہ کی خاک پاک سر پر ڈالنے لگا پھر عرض کرنے لگا :
''یَارَسُوْلَ اللہِ! اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ
یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحمت نازل فرمائے۔''جو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے فرمایا ہم نے سُنا اور جو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم پر نازل ہوا اس میں یہ آیتِ مبارکہ بھی ہے:
(2) وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿64﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔(۱) (پ5،النسآء :64)
میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے اور اب میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''(یعنی اگر )معصیت و نافرمانی کرکے(اپنی جانوں پر ظلم کریں)۔اس (آیت مبارکہ) سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ الٰہی میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کا وسیلہ اور آپ کی شفاعت کاربرآری کا ذریعہ ہے۔'' (یہاں پر اعرابی کا مذکورہ واقعہ ذکر کرنے کے بعد صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:)اس سے چند مسائل معلوم ہوئے۔ مسئلہ: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرضِ حاجت کے لئے اُس کے مقبولوں کو وسیلہ بنانا ذریعہ کامیابی ہے۔ مسئلہ: قبر پر حاجت کے لئے جانا بھی '' جَآءُ وْکَ'' میں داخل اور خیر القرون کا معمول ہے۔ مسئلہ: بعد ِ وفات مقبُولانِ حق کو یا کے ساتھ ندا کرنا جائز ہے۔ مسئلہ:مقبُولانِ حق مدد فرماتے ہیں اور ان کی دعا سے حاجت روائی ہوتی ہے۔''