| حکایتیں اور نصیحتیں |
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ''تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف کجاوے نہ باندھے جائیں:(۱)۔۔۔۔۔۔مسجد ِحرام (۲)۔۔۔۔۔۔میری مسجد(یعنی مسجد نبوی شریف) اور (۳)۔۔۔۔۔۔ مسجد ِ اقصیٰ ۔'' (۱)
(صحیح مسلم،کتاب الحج،باب فضل المساجد الثلاثہ،الحدیث،۱۳۹۷،ص۹0۹)
امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے،حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے :''جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی،اور جس نے میری قبرِ اقدس کی زیارت نہ کی اس نے مجھ سے جفا کی۔''
(سنن الدار قطنی، کتاب الحج،باب مواقیت الحج،الحدیث۲۶۶۸،ص۲،ص۳۵۱۔فردوس الاخبارللدیلمی،باب المیم ،الحدیث۵۷0۸، ج۲،ص۲۵۲)
جنّت کی کیاری:
حضور نبئ پاک، صاحب ِ لولاک، سیّاح افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کافرمانِ رحمت نشان ہے :''جس نے میرے قبر میں جانے کے بعدمیری زیارت کی گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی ،اور جو حرمینِ طیبین میں سے کسی حرم میں مرا وہ بروزِ قیامت امن والوں میں اٹھایاجائے گا، اور بے شک میری قبر اور میرے منبر کی درمیانی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔''
(صحیح البخاری،کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ،باب فضل مابین القبروالمنبر، الحدیث۱۱۹۵، ص۹۳۔سنن الدارقطنی،کتاب الحج ،باب المواقیت،الحدیث ۲۶۶۸، ج۲، ص۳۵۱)
1۔۔۔۔۔۔ مفسِّرِ شہیر، حکیم الامت، مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان فرماتے ہیں: ''یعنی سواء ان مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف اس لیے سفر کرکے جانا کہ وہاں نماز کا ثواب زیادہ ہے، ممنوع ہے۔ جیسے بعض لوگ جمعہ پڑھنے بدایوں سے دہلی جاتے تھے تاکہ وہاں کی جامع مسجد میں ثواب زیادہ ملے، یہ غلط ہے۔ ہر جگہ کی مسجدیں ثواب میں برابر ہیں۔ اس توجیہ پر حدیث بالکل واضح ہے۔ وہابی حضرات نے اس کے معنٰی یہ سمجھے کہ سواء ان تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طر ف سفر ہی حرام ہے لہٰذا عرس، زیارتِ قبور وغیرہ کے لیے سفر حرام۔ اگر یہ مطلب ہو تو پھرتجارت، علاج، دوستوں سے ملاقات، علمِ دین سیکھنے وغیرہ تمام کاموں کے لیے سفر حرام ہوں گے اور ریلوے کا محکمہ معطّل ہو کر رہ جائے گا اور یہ حدیث قرآن کے خلاف ہی ہو گی اور دیگر احادیث کے بھی۔ رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
قُلْ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرْضِ ثُمَّ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۱﴾
ترجمۂ کنز الایمان: تم فرمادو!زمین میں سیرکروپھردیکھو کہ جھٹلانے والوں کاکیساانجام ہوا۔ '' (صاحب ِ)مرقاۃنے اسی جگہ اور(علامہ) شامی نے زیارتِ قبور میں فرمایاکہ چونکہ ان تین مساجد کے سوا تمام مسجدیں برابر ہیں اس لیے اور مسجدوں کی طرف سفر ممنوع ہے اور اولیاء اللہ کی قبریں فیوض وبرکات میں مختلف ہیں۔ لہٰذا زیارتِ قبور کے لیے سفر جائز(ہے)۔ کیا یہ (بدمذہب) جہلاء انبیاء کرام کی قبور کی طرف سفر (سے)بھی منع کریں گے۔'' (مرأۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، باب المساجد ومواضع الصّلٰوۃ، الفصل الاوّل، ج۱، ص۴۳۱۔۴۳۲)
امام یحیی بن شرف الدین نووی علیہ رحمۃ اللہ القوی ''شرح مسلم''ميں لکھتے ہيں: ''ہمارے اصحاب شوافع ،امام الحرمين اور محققين کے نزديک یہ(يعنی مزارات وغيرہ کے قصدسے)سفرکرنانہ حرام ہے، نہ مکروہ،البتہ! فضيلتِ کاملہ ان تين مسجدوں کی طرف سامانِ سفرباندھنے ميں ہے۔''
(شرح المسلم للنووی،سفرالمرأۃ مع محرم الیٰ حج وغيرہ، ج۱،ص۴۳۳)