Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
588 - 649
 (۱۳)۔۔۔۔۔۔ ''شِیْن '' سے مراد شفاعت ہے کہ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن، شَفِیْعُ ا لمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بروزِ قیامت گنہگاروں اورنافرمانوں کی شفاعت وسفارش فرمائیں گے۔ (۱۴)۔۔۔۔۔۔''صَاد'' سے مراد صیانت وحفاظت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ہرعیب سے حفاظت فرمائی اورامانت کی تلوار آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ کر دی۔ (۱۵)۔۔۔۔۔۔''ضَاد'' سے مراد ضیاء وانوارہیں جواللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوعطافرمائے۔ (۱۶)۔۔۔۔۔۔''طَاء'' سے مراد طریقِ اقبال(یعنی راہِ عروج )ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے کھول دی۔ (۱۷)۔۔۔۔۔۔ ''ظَاء '' سے مراد ظلم و گمراہی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے طفیل آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی امت کو ظلم و گمراہی سے نکال دیا۔(۱۸)۔۔۔۔۔۔''فَاء ''سے مراد فرحت ومسرت ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی امت آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زبان مبارک سے بشارتیں اورخوشخبریاں سن کر مسرور ہو گئی۔(۱۹)۔۔۔۔۔۔''قَاف'' سے مراد قاب قوسین (یعنی دوہاتھ کا فاصلہ) ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوشب ِمعراج اس قرب سے مشرّف فرمایا۔ (۲0)۔۔۔۔۔۔''کَاف'' سے مراد کلام الٰہی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جھوٹ سے پاک اپنے لاریب کلام کے ذریعے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوعزت وبزرگی عطا فرمائی۔ (۲۱)۔۔۔۔۔۔''لَام'' سے مراد لطفِ الٰہی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر شک وشبہ سے مُنزَّہ لطف ومہربانی فرمائی۔(۲۲)۔۔۔۔۔۔''مِیْم'' سے مراد مَنّ(یعنی احسان)ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اسرار پر مطلع فرماکرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پراحسان فرمایا۔(۲۳)۔۔۔۔۔۔''نون'' سے مرادنورانیتِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی دنیامیں جلوہ گری ہوتے ہی ایران کاایک ہزارسال سے شُعلہ زَن آتَش کَدہ بجھ گیا۔ (۲۵)۔۔۔۔۔۔''ھَا ''سے مرادہیبت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوایسا رعب ودبدبہ عطافرمایاجس سے بڑے بڑے طاقتورشہسوار زیرہوگئے ۔ (۲۵)۔۔۔۔۔۔''وَاؤ ''سے مراد وقارہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کمالِ وقاروبردباری سے موصوف ہیں۔(۲۶)۔۔۔۔۔۔ ''یَاء ''سے مرادیقین ہے جس کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوتمام جہانوں میں امتیاز عطافرمایا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو انبیاء ومرسلین کا''خَاتَم'' (یعنی آخری نبی)بنایا اورفضل وفخرکے ساتھ قرآنِ حکیم میں ان کی ذاتِ والاصفات پر یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی :
 (1) مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ
ترجمۂ کنزالایمان:محمد اللہ کے رسول ہیں اور ا ن کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں۔(پ26،الفتح:29)

    نبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ شفاعت نشان ہے:''جس نے میری قبرِ اقدس کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔''
   (سنن الدارقطنی،کتاب الحج ،باب المواقیت،الحدیث ۶۹ ۶ ۲،ج۲، ص۳۵۱)
Flag Counter