| حکایتیں اور نصیحتیں |
کے دفتروں کو مٹا دیا۔رمئ جمار(یعنی شیطان کو کنکریاں مارنے ) (۱)کے وقت،اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کو غموں سے نجات عطا فرمائی۔ پھرجب انہوں نے طوافِ و داع(۲) کرلیااور لوٹنے کاپختہ ارادہ کیا تواپنے شوق کومکمل طورپربارگاہِ نبئ مختار، شفیعِ روزِ شُمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم میں جلد حاضری کی طرف متوجہ کردیا۔وہ نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم جن کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بے شمارمعجزات اورنشانیاں دے کر مبعوث فرمایا۔انہیں سب سے اشرف و اعلیٰ قبیلے میں پیدا فرمایا۔ان کے ذریعے مضر اور نزار قبیلوں کوعزت وشرف بخشا۔ان کے دین کو سب سے سیدھا راستہ اور ان کی شریعت کو صلاح وخیر بنایا۔ پس حروفِ تہجی میں سے ہر حرف ان کے مقام و مرتبہ کی عظمت و رفعت پر گواہ ہے۔چنانچہ،
حُرُوْفِ تَہَجِّی اورشانِ مُصْطَفٰی صلَّی اللہ علیہ وسلَّم
(۱)۔۔۔۔۔۔''الف'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قد و قامت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔(۲)۔۔۔۔۔۔''باء ''سے مراد آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بہجت یعنی حسن وخوبصورتی ہے جس نے چانداورسورج کوروشن کیااورچمکایا۔(۳)۔۔۔۔۔۔'' تاء'' سے مراد تائید ہے جوآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ہر شیطان مردود سے حفاظت کرتی ہے ۔(۴)۔۔۔۔۔۔'' ثاي'' سے مراد ثُبَات ہے جس کی وجہ سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہر حال میں ثابت قدم رہے لہٰذا ہمیشہ عدل فرمایاکسی پر ظلم نہ کیا۔(۵)۔۔۔۔۔۔''جِیْم ''سے مراد جودووفا ہے جس کی طرف ہمہ وقت متوجہ رہے ۔ (۶)۔۔۔۔۔۔''حَاء ''سے مراد حلم و بزرگی ہے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے پسندفرمایا۔(۷)۔۔۔۔۔۔''خَاء ''سے مراداختصاص وصفاء ہے یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بے شمار خوبیاں عطافرماکر ہر طرح کے میلے پن سے پاک و صاف رکھا۔(۸)۔۔۔۔۔۔''دَال '' سے مراد دوامِ احسان یعنی بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے نیکی وبھلائی پرہمیشگی کی توفیق عطاہوئی پس آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ہیبت و جلال سے بت اوندھے منہ گرگئے ۔ (۹)۔۔۔۔۔۔''ذَال'' سے مراد ذلت سے حفاظت ہے یعنی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ذات عالی سے ذلت ورسوائی دوررہی حتی کہ وہ خود ہی حقارت وذلت میں مبتلاہوگئی ۔(۱0)۔۔۔۔۔۔''رَاء'' سے مراد رحمت ہے جس کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو مبعوث فرمایا۔(۱۱)۔۔۔۔۔۔''زاء'' سے مراد آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کابے مثل زُہد وقناعت ہے ۔(۱۲)۔۔۔۔۔۔''سِیْن'' سے مرادسیادت وسرداری ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو تمام مخلوق کی سرداری سے سرفرازکرکے ممتازفرمایا۔
1۔۔۔۔۔۔جمرات :منٰی میں تین مقامات جہاں کنکریاں ماری جاتی ہیں پہلے کانام ''جَمْرَۃُ الاُخْرٰی یا جَمْرَۃُ الْعَقَبَہ''ہے۔اسے بڑاشیطان بھی بولتے ہیں ۔ دوسرے کوجمرۃ الوُسطیٰ(منجھلاشیطان)اورتیسراکوجمرۃ الا ُولیٰ(چھوٹاشیطان)کہتے ہیں۔ (رفیق الحرمین ، ص۴۲)2۔۔۔۔۔۔طوافِ وداع:حج کے بعد مکۂ مکرمہ سے رخصت ہوتے ہوئے کیاجاتاہے۔یہ ہرآفاقی(یعنی میقات کی حدود سے باہر رہنے والے) حاجی پرواجب ہے۔ (رفیق الحرمین،ص۳۵)