لے کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی والدۂ ماجدہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو عرض کی : '' ہم نے آپ کے جگر گوشہ کی بدولت بہت خیروبرکت حاصل کی ہے ،ہم آپ سے عرض کرتے ہیں کہ مزیدایک سال ان کو ہمارے پاس رہنے دیں۔'' تو حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ارشاد فرمایا: '' ٹھیک ہے، تم ان کو اپنے پاس رکھ سکتے ہو ۔''لہٰذاہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو دوبارہ پا کربے انتہا خوش ہوئے۔
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم اپنے رضاعی بھائی کے ساتھ مل کر بکریاں چرایا کرتے تھے ،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے رضاعی بھائی ایک دن اپنی والدہ سے عرض کرتے ہیں:'' اے امی جان!میرا حجازی بھائی جب کبھی کسی خشک وادی میں قدم رکھتا ہے تو اس وادی کی تازگی و ہریالی لوٹ آتی ہے،اور جب بکریوں کو پانی پلانے کی خاطر کنوئیں کے پاس تشریف لاتا ہے تو پانی خودبخود کنوئیں کے منہ تک بلند ہو جاتاہے اور جب دھوپ میں سو جائے تو بادل آکر اس کو سورج کی تپش میں سایہ مہیا کرتا ہے، سوتے ہوئے اس کے پاس درندے آتے اور قدم بوسی کرتے ہیں۔'' تو حضرتِ سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ارشاد فرمایا:'' اے میرے بیٹے ! ''اپنے بھائی کا خیال رکھنا۔''
ایک دن دونوں بھائی اپنی عادت کے مطابق کھیلنے کی غرض سے باہر نکل گئے۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کارضاعی بھائی گھرواپس آیا تواس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ وہ آ کر کہنے لگا:'' اے امی جان!میرے حجازی بھائی کو دیکھئے، وہ زخمی ہو گیا ہے۔'' ہم نے اپنے بیٹے سے پوچھا :'' ان کو کیا ہو ا؟''اس نے بتایا:'' میں اورمیرا بھائی کھیل رہے تھے کہ روشن چہروں والے تین افراد آئے، انہوں نے سبزلباس پہنے ہوئے تھے، ان کے پاس طشت اور سونے چاندی کا کوزہ تھا ،انہوں نے میرے بھائی کو اٹھایا اور پھر لٹا کرسینۂ مبارکہ کوشق کرکے قلب ِ اطہر کو باہرنکال لیا۔'' حضرتِ سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:'' ہم تیزی سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی طرف بھاگے تو ہم نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو بالکل صحیح و سالم اور خوش وخرم پایا، نہ توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو کوئی تکلیف تھی اور نہ ہی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے سینۂ مبارکہ پر کوئی نشان تھا۔''