حضرتِ سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہافرماتی ہیں:'' پھر میں اپنی سواری پر سوار ہوئی جس کی حالت یہ تھی کہ کمزوری سے چل بھی نہ سکتی تھی۔ اب وہ قافلہ کی باقی تمام سواریوں سے آگے آگے بھاگنے لگی۔ اس پر سب لوگ حیران تھے ۔ جب ہم نے خشک درخت تلے پڑاؤ کیاتو وہ سرسبز ہو گیااور جب ہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو لے کر تاریک گھر میں داخل ہوئے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا چہرۂ انور چراغ کی طرح چمکنے لگا یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا نور چراغ کے نور پر غالب آ گیا۔''
میں نے اپنے شوہر سے عرض کی :'' کیا آپ نے بھی ملاحظہ کیا ہے جو میں دیکھ رہی ہوں؟''تو انہوں نے جواب دیا :'' کیا میں نے نہ کہا تھا کہ یہ مبارک ہستی ہے ۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :'' جب ہم گھر پہنچے تو ہمارے پاس جو بکریاں تھیں وہ بہت کمزور تھیں۔ ہم نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو اپنے ہاتھوں پر اُٹھایا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو لے کر ان بکریوں کے پاس سے گزرے تودیکھا کہ ان کی حالت تبدیل ہو چکی تھی۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی برکت سے ہمارے رزق میں کثرت ہو گئی حتیٰ کہ باقی تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی وجہ سے ہم پر رشک کرنے لگیں۔''
حضرتِ سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں:''جب میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی طرف والاپستان آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے دہن مبارک میں رکھتی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم دودھ نوش فرماتے لیکن جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے رضائی بھائی کی طرف والا پستان آپ کے منہ میں رکھتی تو دودھ نہ پیتے، لہٰذامیں نے جان لیاکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ و سلَّم عدل و انصاف فرمانے والے ہیں۔''
حضرتِ سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں:ایک مرتبہ بارش نہ ہوئی توسب لوگ کہنے لگے:'' اے حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہا! تمہارے پاس جو مبارک بچہ ہے، اگرتم اس کو اپنے ساتھ لے لوکہ ہم اس کی برکت سے بارش طلب کریں تو یہ ہمارے لئے خیروبرکت کا باعث ہو گا۔'' آپ فرماتی ہیں:'' میں اپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو لے کر باہر آئی تو لوگوں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیااور شہر سے باہر جا کرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے وسیلے سے بارش طلب کی تو دیکھتے ہی دیکھتے بادل نے اس قدرموسلادھار بارش برسائی کہ ہمیں ڈوبنے کاخدشہ لاحق ہو گیا۔''
حضرتِ سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں: ''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم مدتِ رضاعت کی تکمیل تک ہمارے پاس قیام پذیر رہے۔ جب ہم نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی والدۂ محترمہ کے پاس واپس لے جانے کاارادہ کیا تو میرے خاوند کہنے لگے :'' ہم کسی طرح آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو واپس لے آئیں گے ،ہم نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بدولت کئی برکتیں اور رحمتیں حاصل کی ہیں۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ'' ہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو