قیام فرما تھیں تو زبانِ قدرت نے ان کو پکارا اور حدی خواں نے حلیمہ کی سعادت مندی کا یوں نغمہ گنگنایا:
'' اے حلیمہ سعدیہ!اُٹھ جا اور اُس ہستی کی رضاعت کاشرف حاصل کرلے جس کا حسن و جمال یکتا ہے،اور اگر وہ ہستی نہ ہوتی تو مریضِ عشق گرفتارِمحبت نہ ہوتا، اور نہ ہی فرحت و سرور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بارگاہ میں لے جاتا،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم تو وہ ہستی ہیں کہ جن کا حسن بے مثال ہے،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی خاطر توعشاق نے اپنی گردنیں تک کٹا دی ۔ اے حلیمہ سعدیہ ! جب بارگاہِ مصطفی(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم) میں حاضری کی سعادت حاصل کرے گی تو ایسے قرب کی بشارت پائے گی کہ اس کے بعد کبھی بھی کسی تکلیف کاسامنا نہ کرے گی،آپ کی رضاعت کی مہندی تیرے ہاتھوں میں رچی ہوئی ہے،جب والضحی کے روشن ومنور مکھڑے کی زیارت کرے اور چاندی سے مزین و آراستہ لب و رخسار کے جلوے اور بے مثل حسن دیکھے تو اپنے شوہر سے کہنا:'' کسی قسم کا خوف نہ کھا کہ اس بابرکت ہستی کے صدقے ہم اپنا ہر مقصود پائیں گے۔''
عام طور پر اہلِ مکہ کی عادت تھی کہ وہ اپنے شیرخوار بچوں کو رضاعت کے لئے مکہ سے باہر بھیج دیتے تھے ،حضرتِ سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہا ارشاد فرماتی ہیں :'' ایک سال ہم قحط کا شکار ہو گئے، نہ تو آسمان سے بارانِ رحمت برسااور نہ ہی زمین نے کچھ اُگایا، ہم چالیس(40)عورتیں شیرخوار بچوں کی تلاش میں مکہ آئیں تا کہ ان بچوں کودودھ پلانے کے عوض ان کے گھر والے ہماری کچھ مدد کریں ،ہم مکۂ مکرمہ میں داخل ہوئیں تو اہلِ مکہ اپنے بچوں کو لے کر کعبہ معظمہ