Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
581 - 649
قیام فرما تھیں تو زبانِ قدرت نے ان کو پکارا اور حدی خواں نے حلیمہ کی سعادت مندی کا یوں نغمہ گنگنایا:

    '' اے حلیمہ سعدیہ!اُٹھ جا اور اُس ہستی کی رضاعت کاشرف حاصل کرلے جس کا حسن و جمال یکتا ہے،اور اگر وہ ہستی نہ ہوتی تو مریضِ عشق گرفتارِمحبت نہ ہوتا، اور نہ ہی فرحت و سرور آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بارگاہ میں لے جاتا،آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم تو وہ ہستی ہیں کہ جن کا حسن بے مثال ہے،آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی خاطر توعشاق نے اپنی گردنیں تک کٹا دی ۔ اے حلیمہ سعدیہ ! جب بارگاہِ مصطفی(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم) میں حاضری کی سعادت حاصل کرے گی تو ایسے قرب کی بشارت پائے گی کہ اس کے بعد کبھی بھی کسی تکلیف کاسامنا نہ کرے گی،آپ کی رضاعت کی مہندی تیرے ہاتھوں میں رچی ہوئی ہے،جب والضحی کے روشن ومنور مکھڑے کی زیارت کرے اور چاندی سے مزین و آراستہ لب و رخسار کے جلوے اور بے مثل حسن دیکھے تو اپنے شوہر سے کہنا:'' کسی قسم کا خوف نہ کھا کہ اس بابرکت ہستی کے صدقے ہم اپنا ہر مقصود پائیں گے۔''

    عام طور پر اہلِ مکہ کی عادت تھی کہ وہ اپنے شیرخوار بچوں کو رضاعت کے لئے مکہ سے باہر بھیج دیتے تھے ،حضرتِ سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہا ارشاد فرماتی ہیں :'' ایک سال ہم قحط کا شکار ہو گئے، نہ تو آسمان سے بارانِ رحمت برسااور نہ ہی زمین نے کچھ اُگایا، ہم چالیس(40)عورتیں شیرخوار بچوں کی تلاش میں مکہ آئیں تا کہ ان بچوں کودودھ پلانے کے عوض ان کے گھر والے ہماری کچھ مدد کریں ،ہم مکۂ مکرمہ میں داخل ہوئیں تو اہلِ مکہ اپنے بچوں کو لے کر کعبہ معظمہ
زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا
آگئے،ہر باپ اپنے بیٹے کے پہلو میں کھڑا ہوگیا،ا ب ہر عورت آگے بڑھتی اور ایک شیرخواربچہ اٹھا لیتی لیکن جب میں نے اپنی باری پر دیکھا تو سوائے ایک بچے کے کسی کو نہ پایااور اس کے پہلو میں بھی کوئی نہ تھا،میں نے اس بچے کے والد کے متعلق دریافت کیاتو مجھے بتایا گیا:یہ یتیم ہے، اس کا باپ اس وقت دنیاسے کوُچ کر گیا تھا جب اس کی ماں حاملہ تھی اور اب وہ (یعنی بچے کی ماں) کمزور وناتواں ہے۔'' میں نے اپنے خاوند سے کہا: '' اس دُرِّ یتیم کے سوا اب کوئی بچہ باقی نہیں۔'' تو اس نے کہا: '' اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے، اسی کو لے لو، ہم خالی ہاتھ واپس نہیں جائیں گے، اُمید ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اس کا اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔'' اور معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔''

     حضرتِ سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:'' میں نے اس دُرِّ یتیم کو لے لیا ،میں اس وقت خود بھی بچے کی پیدائش کی وجہ سے کمزوری کا شکار تھی اور میری چھاتی میں کمزوری اور بھوک کی وجہ سے دودھ کا ایک قطرہ بھی نہ تھا۔لیکن جب میں نے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو اٹھایاتو میری کمزوری قوت میں بدل گئی اورجب اپنا پستان آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے دہن مبارک میں رکھا تو دودھ بہنے لگا،آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے خوب سیرہو کر پیااور میں نے ایک غیبی آواز سنی: ''اے حلیمہ سعدیہ!تجھے یہ ہاشمی شہزادہ مبارک ہو ۔''
Flag Counter