Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
580 - 649
رہی تھی پھر حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بے خودی میں اپنا ہاتھ دل پر رکھ دیا اور کہا :'' مجھے واپس حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کے درِ دولت پر لے چلو، ان سے دوسری بار رُخِ مصطفی صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے حسن و جمال کی زیارت کی بھیک مانگتے ہیں۔ لہٰذا وہ سب ان کی یہ بے قراری دیکھ کر واپس چل پڑے۔جب حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو دیکھا تو دوڑ کر آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے قدمینِ شریفین سے لپٹ گئے اور گُھٹی گھٹی سانسیں لینے لگے اور پھر اسی حالت میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی روحِ پاک کو جنت میں پہنچا دیا۔

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !عاشقوں اور سچی محبت کرنے والوں کے یہی اوصاف ہوتے ہیں۔

    اے میرے پيارے اسلامی بھائیو!اس محبوب ِخدا عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے اوصافِ حمید ہ سن لو ، جنہوں نے ساری کائنات کو عزت اور حسن و جمال سے مزین کر دیا ہے کہ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا مبارک نور آفاق میں چمک رہا ہے، اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو رعب و د بدبہ اور فضل و کرم کا لبادہ اوڑھا رکھا ہے،محض آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی برکت سے حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حمل کی تکالیف کوآسان کر دیا،اور آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو اس جہانِ فانی میں بھیج کر پوری کائنات کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی مہک و خوشبو سے معطر کردیا۔
سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہاکی سعادت مندی:
    حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا ظہورِ نفاس کی وجہ سے کمزور ی محسوس کرنے لگیں اور اس غم میں مبتلا ہو گئیں کہ وہ رسولِ اَکرم، نبئ محتشم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنا دودھ نہ پلا سکیں گی تو جانوروں ،پرندوں اور ہواؤں میں سے ہر ایک یہ دعاکرنے لگا: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں اجازت دے کہ ہم تیری مخلوق میں تجھے سب سے زیادہ پسندیدہ و عزیز ہستی کی پرورش کی سعادت پائیں۔''

    فرشتوں نے عرض کی :'' یااللہ عَزَّوَجَلَّ! تو جانتا ہے کہ ہمیں تیرے محبوب صلَّی   اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم سے کتنی محبت ہے لہٰذا تو ہمیں ان کی پرورش کرنے کی اجازت عطا فرماتاکہ ہم آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے چہرۂ اقدس کے نور سے شرف پائیں اوراس کی برکت سے کچھ حصہ پائیں ۔'' ان سب کی التجاء و فریاد کے جواب میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:''میں اس بات پر قادر ہوں کہ ان کی پرورش بغیر کسی سبب اور دودھ پلانے والی کے کروں لیکن میں فیصلہ فرماچکا ہوں اور میں اپنی حکمت و دانائی کے تحت جب کسی کو کچھ عطاکر دوں تو کبھی اس سے واپس نہیں لیتا اور میں نے ازل میں اپنی حکمت کے مطابق یہ لکھ دیا تھا کہ اس درّ ِیتیم اور نفسِ کریم کو حکمت والی حلیمہ کے علاوہ کوئی دودھ نہیں پلائے گا۔''اس وقت حضرتِ سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے شہر میں
Flag Counter