رہی تھی پھر حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بے خودی میں اپنا ہاتھ دل پر رکھ دیا اور کہا :'' مجھے واپس حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کے درِ دولت پر لے چلو، ان سے دوسری بار رُخِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے حسن و جمال کی زیارت کی بھیک مانگتے ہیں۔ لہٰذا وہ سب ان کی یہ بے قراری دیکھ کر واپس چل پڑے۔جب حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو دیکھا تو دوڑ کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے قدمینِ شریفین سے لپٹ گئے اور گُھٹی گھٹی سانسیں لینے لگے اور پھر اسی حالت میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی روحِ پاک کو جنت میں پہنچا دیا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !عاشقوں اور سچی محبت کرنے والوں کے یہی اوصاف ہوتے ہیں۔
اے میرے پيارے اسلامی بھائیو!اس محبوب ِخدا عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے اوصافِ حمید ہ سن لو ، جنہوں نے ساری کائنات کو عزت اور حسن و جمال سے مزین کر دیا ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا مبارک نور آفاق میں چمک رہا ہے، اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو رعب و د بدبہ اور فضل و کرم کا لبادہ اوڑھا رکھا ہے،محض آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی برکت سے حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حمل کی تکالیف کوآسان کر دیا،اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو اس جہانِ فانی میں بھیج کر پوری کائنات کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی مہک و خوشبو سے معطر کردیا۔