Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
579 - 649
بارگاہ میں اپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مرتبۂ کمال کا واسطہ دے کر دعا کی اور اپنے ہاتھ جسم پر پھیر لئے۔ اب جبکہ میں بیدار ہوئی تو بالکل تندرست ہو چکی تھی جیسا کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجہ سے فرمایا: ''یقینا اس مولودِ مسعودصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی خبر خوش آئند اور بڑی دل آویز ہے ،ہم آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی عجیب و غریب نشانیاں سن اور دیکھ رہے ہیں، میں توضرور آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی محبت میں وادیاں اور گھاٹیاں عبور کرتاہوا آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بارگاہ تک رسائی حاصل کروں گا۔

    چنانچہ، وہ قافلے کے ہمراہ گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور مکۂ مکرمہ
زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًا
کا قصد کیا۔ وہاں پہنچ کر حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر کے متعلق دریافت کیا،اور پھر کاشانۂ اقدس کے دروازے پر دستک دی۔ جواب ملنے پر عرض کی: '' ہمیں اس نو مولود ہستی صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی زیارت کرا دیں جس کے نور کی بدولت اللہ عَزَّوَجَلَّ نے موجودات کو منور فرمایا ہے اور جس کی وجہ سے اس کے آباؤاجداد شرف والے ہو گئے ہیں ۔''اس پر حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ارشاد فرمایا :'' میں ہر گز اس ہستی صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو باہر نہیں نکالوں گی کیونکہ مجھے یہودیوں کی جانب سے تکلیف پہنچائے جانے کا خطرہ ہے۔''

    انہوں نے عرض کی:''ہم نے تو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی محبت میں اپنے وطن سے جدائی گواراکی، حبیبِ خدا عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا حسن و جمال دیکھنے کے لئے اپنا دین چھوڑا اور اپنے بدنوں کو تھکاوٹ سے چور چور کردیا۔''

    حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ارشاد فرمایا:'' اگر ایسا ہے تو پھر انتظار کرو ، کچھ دیر تک مزید صبر کرو، قطعاً جلد بازی سے کام نہ لو پھر آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکچھ دیر کے لئے دروازے کے پاس سے ہٹ گئیں اور دوبارہ واپس آکر انہیں ارشاد فرمایا: ''اندر آجاؤ۔''جب شمعِ رسالت کے پروانوں نے اجازت پاکر باریابی کاشرف حاصل کیا تو انوار ِحبیب صلَّی   اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے جلوے دیکھ کر نثار ہو گئے اور بے اختیار تکبیر و تہلیل کے نعرے زبانوں پر جاری ہو گئے،اور پھر جب رُخِ زیبا سے نقاب ہٹا تو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے چہرۂ اقدس سے ایسی روشنی نمودار ہوئی جس کی کرنیں آسمان تک جا پہنچیں۔یہ دیکھ کر سب خوشی و مسرت سے بے خود ہوگئے۔ قریب تھا کہ رعب و دبدبہ سے بے ہوش ہو جاتے لیکن سنبھل گئے اور آگے بڑھ کر قدم بوسی کی سعادت حاصل کی اور آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم پر ایمان لے آئے۔

    حضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے ان سے ارشاد فرمایا:'' جلدی کرو کیونکہ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے دادا جان حضرتِ سیِّدُنا عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وعدہ لے رکھا ہے کہ میں اپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو لوگوں سے چھپا کر رکھوں اور آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے شان و مرتبہ کو مخفی رکھوں۔''

    وہ حبیبِ خداعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بارگاہ سے اس حال میں جدا ہوئے کہ ان کے دلوں میں محبت کی آگ بھڑک
Flag Counter