سے انتظار کیا جا رہا تھا جن سے حجر و شجر گفتگو فرمائیں گے ،چاند ان کی خاطر دو ٹکڑے ہو گااور وہ بنی ربیعہ و بنی مضر کے سردار ہیں۔''
حضرتِ سیِّدُنا عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجہ سے استفسار فرمایا: ''کیا تم سُن رہی ہو، یہ بے جان پتھر کیا کہہ رہا ہے ؟ ' ' اس نے عرض کی: ''اس سے اس مولودِ محترم کا اسم گرامی تو دریافت کریں۔'' آپ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا :'' اے وہ غیبی آواز جو اس سخت پتھر کی زبان میں گفتگوفرمارہی ہے! تجھے اس ذات کی قسم جس نے تجھے قوت گویائی عطا فرمائی! ذرا یہ تو بتاؤکہ اس پیدا ہونے والی ہستی کا اسمِ گرامی کیا ہے؟'' آواز آئی:''حضرتِ سیِّدُنا محمد ِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم جو صاحب ِ زم زم و صفا یعنی حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بیٹے ہیں،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی زمین تہامہ ہے ،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت ہے اورسخت گرم دھوپ میں بادل آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم پرسایہ فگن رہے گا۔''
حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اہلیہ سے ارشاد فرمایا:''چلو، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی تلاش میں نکلیں،تاکہ ہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے سبب راہ ِحق پا لیں۔''ابھی وہ دونوں میاں بیوی یہ گفتگو کرہی رہے تھے کہ ان کی بیٹی جونیچے گھرمیں بیمارپڑی تھی، اچانک ان کے پاس چھت پر آکھڑی ہوئی اور انہیں پتہ بھی نہ چلا،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا تو پوچھا: ''اے بیٹی! کہا ں گیا تیرا وہ درد اور بیماری جس میں تو ہمیشہ سے مبتلا تھی ؟ اور کہاں گیاتیرا بے قراری کی وجہ سے راتوں کو جا گنا؟''
بیٹی نے جواب دیا:''اے میرے والد ِ محترم !میں نے خواب دیکھا کہ میرے سامنے ایک نور ہے اور ایک شخص میرے پاس آیا۔میں نے اس سے دریافت کیا: ''یہ نور کس کا ہے جو میں دیکھ رہی ہوں؟اوریہ شخص کون ہے جس کا نور مبارک مجھ پر چمک رہا ہے؟'' مجھے جواب ملا:''یہ نور بنی عدنان کے سردارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کا ہے جن سے ساری کائنات معطر ہو گئی ہے۔'' میں نے پھر پوچھا : ''ان کا اسمِ گرامی کیا ہے؟''تو جواب ملا :''ان کا نام مبارک محمد اور احمدصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم ہے، قیدیوں اور مصیبت زدوں پر رحم اور مجرموں کو معاف فرمائیں گے۔''
میں نے پوچھا:'' ان کادین کیاہے؟''جواب ملا:'' دینِ حنیف ۔''میں نے پوچھا:'' ان کانسب کیا ہے؟''جواب ملا: '' قریشی عدنانی ۔''میں نے پوچھا:'' یہ کس کی عبادت کریں گے ؟''جواب ملا:''خدائے وحدہ، لا شریک عَزَّوَجَلَّ کی۔'' میں نے پوچھا : '' اے مجھ سے خطاب فرمانے والے! تو کون ہے ؟''جواب ملا:'' میں ان کی آمد کی بشارت دینے والے فرشتوں میں سے ایک ہو ں۔''
میں نے عرض کی: ''جس دکھ درد میں میں مبتلا ہوں اس کے بارے میں تیرا کیاخیال ہے؟ '' اس نے جواب دیا:'' بارگاہِ ربُّ العزت عَزَّوَجَلَّ میں ان کی عظمت ا ور جاہ ومرتبہ کا وسیلہ پیش کرو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خود ارشاد فرمایا ہے: ''میں نے اپنا راز اور اپنی برہان ان کو ودیعت کر دی ہے،اب جس نے بھی ان کے وسیلے سے مجھ سے دعا کی میں اس کو ضرور قبول کرو ں گا اور قیامت کے دن اپنے نافرمان کے حق میں بھی ان کی شفاعت قبول فرماؤں گا۔''پس میں نے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی