Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
577 - 649
جبکہ سرکارِ عالی وقار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے قریشی چچا پر شقاوت و بدبختی غالب آگئی۔حضرتِ سیِّدُنا صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روم میں معرفت کی بو پائی تو محبتِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم میں سرگرداں و حیراں ہو کر جنگلوں میں نکل گئے اور جب قبولیت کی لطیف وخوشگوار ہوائیں حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر چلیں تو گھروالوں، وطن اور سب سے جدا ہو کر محض زیارتِ نبی صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی طلب میں نکل کھڑے ہوئے۔ اور جناب صادق وامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے اپنے اس فرمانِ عالیشان سے حضرتِ سیِّدُنااویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اچھے وصف سے موصوف کر دیا کہ''میں یمن کی طرف سے خوشبوئے رحمن عَزَّوَجَلَّ پاتا ہو ں ۔ '' 

    جب یہی نسیمِ سحر یمن سے گزری تو اس کی مہک پا کرحضرت سیِّدُنا عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتوں کی پوجا چھوڑ کر اسلام کا دامن تھام لیا اور قدم بوسۂ رسولِ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم سے مشرّف ہو گئے اور پھر محبت و عشقِ رسول صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میں موت کو گلے لگا لیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاواقعہ اہلِ عقل ودانش کے لئے حیران کن ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام لانے سے قبل حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بت کی پوجاکیا کرتے تھے ،آپ کی ایک بیٹی فالج و جذام کی بیماری میں مبتلا تھی اور چلنے پھرنے سے قاصر تھی،آپ اپنے بت کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنی بیٹی کو بھی اس کے سامنے بٹھا لیتے اور پھر کہتے کہ میری یہ بیٹی بیمار ہے اس کا علاج کر دے، اگر تیرے پاس اس کی شفاء ہے تو اسے مصیبت و بیماری سے چھٹکارا دے دے ،کئی سال اس بت سے اپنی حاجت پوری کرنے کا مطالبہ کرتے رہے لیکن اس نے ان کی حاجت برآری نہ کی۔ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر توفیق و ہدایت کی بادِ عنایت چلی توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجۂ محترمہ سے ارشاد فرمایا :'' کب تک اس بہرے و گونگے پتھر کی عبادت کرتے رہیں گے جو نہ آواز نکالتا ہے، نہ بات کرتا ہے، میں اِسے دین ِ حق گمان نہیں کرتا۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی نے عرض کی : ''آپ ہمیں کسی راستے پر لے چلیں۔ اُمید ہے کہ ہم راہِ حق پا لیں گے ،یقینا اس مشرق و مغرب کا کوئی تو خدا ہو گا۔''

    حضرتِ سیِّدُنا عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کی چھت پر بت کے سامنے بیٹھے تھے کہ اچانک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نور دیکھا جس نے آفاق کو بھر دیا اور ساری موجودات کو روشنی سے چمکادیااور پھراللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگاہِ بصیرت سے پردے ہٹا دئيے تا کہ آپ خوابِ غفلت سے بیدار ہوجائیں ،پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ فرشتے قطار در قطار ایک گھر کے گرد جمع ہیں،پہاڑ سجدہ ریز ،زمین ساکت و جامد اور درخت جھکے ہوئے ہیں،خوشیاں عروج پر ہیں اور پھر ایک آواز سنی کہ ہدایت دینے والے نبئ محترم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی ولادت ہو گئی ہے، اس کے بعد آپ اپنے بت کے پاس آئے تو وہ بھی اوندھا پڑا ہوا تھا،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا:''یہ کیا ہو رہا ہے ؟کس چیز کا ظہور ہو رہا ہے؟یہ کیسی خبر سنائی دے رہی ہے؟''پھر بت کو گھُور کر دیکھا تووہ کہہ رہا تھا:' توجہ سے سنو! ایک بہت بڑی خبر کا ظہور ہو چکا ہے اور وہ یہ کہ آج وہ ہستی دنیا میں تشریف لاچکی ہے جو کائنات کو شرف و افتخار بخشے گی ،وہ نبئ آخر الزماں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم تشریف لا چکے ہیں جن کا صدیوں