| حکایتیں اور نصیحتیں |
وآلہ وسلَّم کی زبانِ اقدس سے یہ مژدہ جاں فزا سننے کی کامیابی حاصل کرلی کہ''سَلْمَانُ مِنَّا''یعنی سلمان فارسی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہم میں سے ہیں۔''
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد،الرقم ۳۵۹سلمان فارسی،ج۴، ص۶۲)
جب اس لطیف وخوشگوار ہواکاگزر ارضِ روم سے ہوا توسب سے پہلے اہلِ روم کے سردارحضرتِ سیِّدُنا صُہَیب رومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی مہک کو محسوس کیاتوتاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوکردامنِ اسلام کو تھام لیا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے دیدارسے فیضیاب ہوکر صحابیت کاشرف حاصل کیا۔جب میلادِ مبارک کی لطیف وخوشگوار ہوا ملک ِ یمن کی سرزمین پر پہنچی تو اس کی مہک سب سے پہلے حضرتِ سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ظاہر وباطن میں محسوس کی اور مصطفی جانِ رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو پانے کے لئے بغیرکسی ظاہری معاوضے کے اپنی جان لڑاد ی اور باوجود وطن کی دوری کے مصطفی جانِ کائنات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلم پر ایمان لائے توسیِّدِعالم نے ان کی تعریف کرتے ہوئے ارشادفرمایا:''میں یمن کی طرف سے خوشبوئے رحمن عَزَّوَجَلَّ پاتا ہوں
(یعنی یمن رحمانی تجلیات کے ظھور کا مقام ہے۔ مرقاۃ، ج۱0،ص۶۴۶ )۔'' (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ،الحدیث۱0۹۷۸،ج۳، ص۶۴۹)
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقام ومرتبہ اور عظمت و شان کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ارشاد فرمایا:'' اے عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )!جب تم اویس قرنی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے ملو تو اسے سلام کہنااور کہناکہ وہ تیرے لئے دعائے مغفرت کرے کیونکہ وہ قبیلہ ربیعہ اور مضر کے برابر لوگوں کی شفاعت کریگا۔''
(سیراعلام النبلاء،الرقم۳۷۲،اویس قرنی،ج۵، ص۷۴)
جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے میلادِ مبارک کی لطیف وخوشگوار خوشبودار ہوا حبشہ پہنچی تو وہاں سب سے پہلے حضرتِ سیِّدُنا بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لبیک کہا اور انہیں تصدیق کی توفیق نے ایمان تک پہنچادیا،پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اذانیں دیا کرتے اور یوں اپنے ایمان کا اعلان کرتے اور دین ِ اسلام کے لئے پریشان رہتے اور حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ذکر ِ خیر کے جھنڈے جگہ جگہ گاڑ دیئے تو نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے ان کی خاص طور پر تعریف فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:'' اے بلال(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! تم میرے تذکرے عام کرتے اور میری قدر ومنزلت لوگوں میں اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہو، یہی وجہ ہے کہ جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے آگے تمہارے چلنے کی آواز سنی ۔''
(جامع الترمذی،ابواب المناقب،باب اتیت علی صر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۳۶۸۹،ص۲0۳۱،فیہ''خشخشتک ا مامی''فقط)
اے میرے پیارے پیارے اسلامی بھائیو!سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !اس حبشی غلام کی طرف عنایتِ ربّانی سبقت لے گئی