Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
575 - 649
صرف موجودات کو شرف بخشا بلکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کوتمام موجودات کے لئے دنیا و آخرت میں باعث ِرحمت بنایا ۔

    حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :''حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سب سے زیادہ شجاع وبہادر ،سب سے حسین اورسب سے زیادہ سخی تھے ۔
 (صحیح مسلم،کتاب الفضائل،باب شجاعتہ صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث۲۳0۷،ص۱0۸۵)
تمام لوگوں سے زیادہ بردبارتھے ۔
 (احیاء علوم الدین،بیان جملۃ من محاسن اخلاقہ ،ج۲، ص۴۴۱ )
تمام لوگوں سے زیادہ کریم تھے ۔
 (اخلاق النبی علیہ السلام لابی الشیخ الاصبھانی،باب ماروی فی کظمہ الغیظ وحلمہ ،الحدیث۵۷،ج۱،ص۶0 )
سب سے زیادہ عابد و زاہدتھے اور تمام لوگوں سے زیادہ فصیح کلام کرنے والے تھے۔
 (احیاء علوم الدین،کتاب آداب المعیشۃ واخلاق النبوۃ،ج۲،ص۵0 ۴)
 (المرجع السابق،بیان جملۃ من محاسن اخلاقہ،ج۲، ص۴۴۴)
ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ صحیح اور سب سے بڑھ کر انصاف فرمانے والے تھے ، نیزوسیع الظرف تھے ، قیدیوں پر رحم فرماتے ،بڑوں کی عزت کرتے ،خندہ پیشانی سے ملاقات کرتے ، گرمیوں کی شدت میں بھی روزہ رکھتے اور تاریک راتوں میں قیام کرتے۔ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو ربِّ قدوس عَزَّوَجَلَّ نے یوں مخاطب فرمایا:
 (1) یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿45﴾ۙوَّ دَاعِیًا اِلَی اللہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿46﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اے غیب کی خبریں بتانے والے(نبی)!بے شک ہم نے تمہیں بھیجاحاضر ناظر اور خوشخبری دیتااور ڈرسناتا۔اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتااور چمکادینے والا آفتاب۔(پ22،الاحزاب:45،46)

    اے میرے پیارے اسلامی بھائیو!جب سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری ہوئی تو زندگی میں رونق آگئی اور باطل ختم ہو گیا،ایمان کا چراغ جلاتو پھر کبھی نہ بجھا۔ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے میلادِ مبارک کی خبر دینے والی لطیف وخوشگوار ہوا ساری کائنات میں چلی اور آپ کے نورِ مبارک سے ساری کائنات نے عزت وشرافت کالباس پہن لیا۔ جب اس کا گزر فارس کی زمین سے ہوا تو اس نے (صدیوں سے جلنے والے) آتش کدے کو بجھا دیااور اہلِ فارس میں سے سب سے پہلے حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے محسوس کیا،آپ بڑی تیزی سے حصولِ ایمان کی خاطر منزلیں طے کرتے ہوئے حضورسیِّدُ الکونین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بارگاہِ ناز میں حاضر ہو ئے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت کا اقرار کر کے دائرۂ اِسلام میں داخل ہو گئے، حضرتِ سیِّدُنا سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جان لیا کہ حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی خواہش کیا ہے۔ ان کی کوشش رائیگاں نہ گئی بلکہ انہوں نے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ
Flag Counter