Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
573 - 649
علیہ وآ لہ وسلَّم ہوں گے اور ان کو دلیل وبرہان کے ساتھ مبعوث فرمایا جائے گا،نیز ان کے اوصاف تورات وانجیل اور زبور میں موجود ہیں اوران کا دین تمام ادیان پر غالب ہوگا۔

    حضرتِ سیِّدُناابن ابی زید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں،''شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحب ِ معطر پسینہ، باعث ِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادتِ باسعادت ماہ ِربیع الاوّل شریف کی بارہ تاریخ پیر کے دن عام الفیل میں ہوئی۔''
 (السیرۃالنبویۃ لابن ہشام،ولادۃ رسول اللہ،ج۱،ص۱۶۱)
جس سُہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند:
    اس عظیم الشان نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی دنیا میں تشریف آوری پر ساری کائنات خوشی سے جھوم اٹھی۔ اس ماہ ِمبارک کی پہلی رات حضرتِ سیِّدَتُناآمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عجیب کیف وسرورحاصل ہوا ۔ دوسری رات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو حصولِ مطلوب کامژدہ ملا۔تیسری رات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے کہا گیاکہ آپ کے شکمِ اطہر میں جو ہستی ہے وہ ہماری حمد بجا لانے اور شکر ادا کرنے والی ہے۔ چوتھی رات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے ملائکہ کی تسبیح سنی جو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی آمد کا اعلان کر رہے تھے۔ پانچویں رات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خواب میں حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم علیہ الصلٰوۃوالسلام کو دیکھاجوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو نوروالے اور بلندیوں کے مالک نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی بشارت دے رہے تھے۔چھٹی رات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوایسا دائمی فرحت و سرور حاصل ہوا کہ اس کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہ کمزور پڑیں ، نہ آپ کو کبھی تھکاوٹ ہوئی ۔ساتویں رات اللہ عَزَّوَجَلّ نے اپنی رضاکا نور پھیلایا تو وہ ہر طرف پھیل گیا ۔ آٹھویں رات ولادت شہِ دیں کا وقت قریب آنے کی وجہ سے ملائکہ نے حضرتِ سیِّدَتُناآمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کاشانۂ اقدس کا چکر لگایا ۔نویں رات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سعادتوں اورتونگری کی ابتداء ہوئی۔ دسویں رات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تھکاوٹ وتکلیف جاتی رہی ۔ گیارہویں رات حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس جہانِ فانی میں تشریف لائے تو سارا گھر نور سے منوّر ہو گیا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا شک و شبہ اور ڈر ختم ہو گیا ، صفا ومروہ پہاڑ خوشی سے جھوم اٹھے، آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم نے دُنیا میں جلوہ گر ہوتے ہی اپنے پروردگارِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ کیا اور اپنی انگلی آسمان کی جانب اس طرح بلند کی جیسے کوئی شخص عاجزی و انکساری سے اپنے مالک کے سامنے ہاتھ بلند کرتا ہے۔ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی خوشبو کائنات میں بکھر گئی،ملائکہ نے تکبیر و تہلیل(اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ) کے نعرے لگائے اور آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے عظمت وجلالت والے چہرۂ اقدس کے مبارک نورسے ساری زمین بُقعۂ نور(یعنی نور کا ٹکڑا)بن گئی ۔
Flag Counter