Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
572 - 649
مطابق عمل کیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نورِ محمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم حضرتِ سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے حضرتِ سیِّدَتُنا حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں منتقل فرما دیا۔یہ شبِ جمعہ اوررجبُ المرجب کی بارہویں رات تھی۔ پھر آپ علیہ الصلٰوۃ و السلام اس نور کو حضرتِ سیِّدَتُنا حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی پیشانی میں سورج کی مانند دائرے کی صورت میں دیکھا کرتے۔ جب حضرتِ سیِّدُنا شِیث علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام پیدا ہوئے تو نورِ محمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آپ علیہ  الصلٰوۃ والسلام کی پیشانی میں منتقل کردیا گیا۔ جب آپ علیہ  الصلٰوۃ والسلام بڑے ہوئے اور جوانی کی حدود میں قدم رکھا تو حضرتِ سیِّدُنا آدم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے آپ علیہ السلام سے عہد وپیمان لیا کہ وہ اس خدائی راز کو کسی پاک باز بی بی میں ہی منتقل فرمائیں گے تاکہ یہ کسی پاک باز مرد تک ہی منتقل ہو۔اس طرح یہ مبارک نورنیک مردوں کی پشتوں سے نیک عورتوں کے رحموں میں منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ وقت آگیاکہ یہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچ گیا۔

    جب یہ نورحضرتِ سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی طرف منتقل ہوا تواس کی برکت سے وہ ہر قسم کے خوف سے بے پرو اہ ہو گئیں،جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نورِ محمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو رفیعُ الشان صُلبوں سے بلند رُتبہ سیِّدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بطنِ اَطہَر کی طرف منتقل فرمایاتواس منتقلی کے ساتھ ہی بڑی بڑی نشانیاں ظاہرہونے لگیں۔ ساری مخلوق ایک دوسرے کو بشارتیں دینے لگی، زمین و آسمان میں اعلان کر دیا گیا: ''اے عرش! وقار و سنجیدگی کا نقاب اوڑھ لے۔ اے کرسی! فخر کی زرہ پہن لے۔ اے سِدرۃُ المنتہیٰ! خوشی سے جھوم جا۔ اے ہیبت اور رعب و دبدبہ کے ا نوار! تم بھی خوب روشن ہو جاؤ۔ اے جنّت!خوب آراستہ وپیراستہ ہو جا۔اے محلات کی حُورو ! تم بھی بلندی سے دیکھو۔ اے رضوان (باغبانِ جنت) ! جنت کے دروازے کھو ل دے اور حُور و غِلماں کو سامانِ زینت سے آراستہ وپیراستہ کر کے کائنات کو خوشبوؤں سے معطّر کر دے۔ اے مالک(داروغۂ جہنم)! جہنم کے دروازے بند کر دے۔ کیونکہ آج کی رات میری قدرت کے خزانوں میں چھپاہوا نور اور راز عبداللہ سے جدا ہو کر آمنہ کے بطن میں منتقل ہونے والا ہے اور اس نور کے منتقل ہوتے ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا خالص یقین ظاہرہوگیااورآنتیں آپ کے پیٹ کے بچے سے لپٹ گئیں۔

    آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے شکمِ مادَر میں منتقل ہونے کے پہلے مہینے شاہِ ایران کے محل ''کسریٰ'' میں زلزلہ برپا ہو گیا۔ دوسرے مہینے کائنات بشارتوں سے منور ہوئی۔ تیسرے مہینے دریائے ساوہ خشک ہو گیا۔ چوتھے مہینے وادیئ سماوہ خشک ہو گئی۔ پانچویں مہینےبحیرہ طبریہ رک گیا۔ چھٹے مہینےمالکِ حقیقی کے پوشیدہ راز کی بناء پر آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے والد ِ محترم اس جہان فانی سے کُوچ کر گئے،ساتویں مہینے ایران کا آتش کدہ بجھ گیا ،آٹھویں مہینے ایوان کسریٰ میں دراڑ پڑ گئی اور کسریٰ ذلیل وخوار ہوا۔نویں مہینے کسریٰ کے سر سے تاج گر گیا اور اس کی مصیبت و تکلیف شدت اختیار کر گئی،اس نے کاہنوں اور راہبوں سے اس بارے میں دریافت کیاتواسے بتایا گیاکہ بنی عدنان کے سردار کی ولادت کا وقت قریب آچکا ہے اور وہ نبئ آخرالزماں صلَّی اللہ تعالیٰ