| حکایتیں اور نصیحتیں |
مشرق و مغرب والوں پر فضیلت دی۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی سماعتِ مبارکہ ایسی کہ عرش پر قلم کے چلنے کی آواز سن لیتے ہیں اوربصارتِ مبارکہ ایسی کہ ساتوں اسمان نظرمیں ہیں۔زبان مبارک ایسی کہ کبھی اپنی مرضی سے کلام فرمایا،نہ ہی کبھی جھوٹی بات منہ سے نکالی(کیونکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی ہربات وحی الٰہی عزوجل سے ہے )۔ ہاتھ ایسے مقدس کہ جن کی برکات کھانے پینے والی اشیاء میں عام وظاہر۔قلبِ اطہرایسا جو کبھی غافل ہوتا، نہ ہی کبھی سوتا،ہرگھڑی ہر لمحہ عبادتِ الٰہی میں مشغول رہتا۔ قدم مبارک وہ جسے اونٹ بوسہ دے تواس کاخوف دورہوجائے۔گوہ(ایک جانورکانام ہے)آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم پر ایمان لائی۔ درختوں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کوسلام کیا۔ پتھروں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم سے کلام کیااورکھجور کا تنا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی محبت میں دیوانہ ہو گیا۔
مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:'' کُنْتُ نَبِیًّا وَآدَمُ بَیْنَ المَاءِ وَالطِّیْنِ
یعنی میں اس وقت بھی نبی تھاجبکہ حضرت آدم علیہ الصلٰوۃوالسلام پانی اور مٹی کے درمیان تھے۔''
(الفتوحات المکیۃ لابن عربی،الباب العاشر فی معرفۃ دورۃ الملک۔۔۔۔۔۔الخ،ج۱،ص۳۵۱)
حضرتِ سیِّدُناابو محمدمکی اور حضرتِ سیِّدُنا ابواللیث سمرقندی رحمہمااللہ تعالیٰبیان فرماتے ہیں:'' جب حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ الصلٰوۃ و السلام کو جنت سے زمین پر اُتارا گیا تو آپ علیہ السلام نے عرض کی:''یااللہ عَزَّوَجَلَّ بحقِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم میری لغزش معاف فرمااورمیری توبہ قبول فرما ۔'' تواللہ عَزَّوَجَلَّ نے استفسارفرمایا:'' اے آدم (علیہ الصلٰوۃوالسلام)! تجھے میرے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی پہچان کیسے حاصل ہوئی؟'' عرض کی: '' یااللہ عَزَّوَجَلَّ! جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے اپنا سر تیرے عرش کی جانب اُٹھایاتواس پریہ لکھا ہوا پایا،
''لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ۔''
تومیں نے جان لیاکہ تیرے نزدیک اس ہستی سے بڑھ کر قدرو منزلت والا کوئی نہیں،پس میں نے تیری بارگاہ میں ان کا وسیلہ پیش کیا َ۔'' جب حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دعا کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور اپنے حبیب ِ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی برکت سے ان کی لغزش معاف فرما دی۔''
(المستدرک،کتاب آیات رسول اللہ ،باب استغفارآدم علیہ السلام، الحدیث۴۲۸۶،ج۳،ص۵۱۷،بتغیرٍ)
نورِ محمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی چمک دمک :
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نورِ محمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کوحضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ الصلٰوۃوالسلام کی پشت مبارک میں بطورِ امانت رکھااور ان کو جنت میں ٹھہرا کر فرشتوں سے سجدہ کرایا،اس کے بعد حضرتِ سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو اس ودیعت کئے گئے نور کی قدر و منزلت کی پہچان کرا ئی اور فرمایا: ''دونوں پاک و صاف ہو کر تسبیح و تقدیس کرو پھر اپنی اہلیہ حواء کا حقِّ زوجیت ادا کروکہ میں تم دونوں سے اپنے فیضِ آثار نور کا ظہور فرمانے والا ہوں۔'' پس آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حکمِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے