Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
570 - 649
بقامیں فناومِثْلِیَّت سے پاک ہے۔ہرنہاں وعیاں چیزکوجانتاہے۔عقلیں اس کی عظمت وبڑائی میں حیرت زدہ ہیں۔وہ اس کے لئے کوئی جگہ پہچان نہ سکیں۔افکارنے اس کی شانِ بے نیازی کوشمارکرنے کاارادہ کیامگر عقلی علوم سے اس کی معرفت نہیں ہو سکتی ۔ وہ مشابہ ورشتہ دار سے بلندوبرترہے۔حصہ دارورفیق سے پاک ہے۔توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتااوررجوع کرنے والے کومحبوب ودوست رکھتاہے۔اس کے دروازے پر کوئی دربان ہے نہ کوئی روکنے والا۔جس نے اس کے علاوہ سے امیدلگائی وہ بدبخت اورخائب وخاسرہوا۔ اورجس نے اس کی عطاکے دروازے پرپڑاؤڈالاوہ مقاصدو مطالب پانے میں کامیاب ہوگیا۔جو اس کے قرب کی حلاوت کوچکھ لیتاہے وہ اس کی قدرتوں کے عجائب وغرائب کودیکھتاہے۔جوتمام جہان سے منہ پھیرکراس سے لولگاتاہے وہ اسے بلندی اوراعلیٰ مراتب پرترقی عطافرماتاہے توتنگی و پریشانی دورہوجاتی ہے ۔ سحرکے وقت خاص تجلی کا ظہور ہوتاہے اورپکاراجاتاہے :'' ہے کوئی مغفرت کاطلبگار۔ہے کوئی توبہ کرنے والا ۔'' اورمانگنے والوں کی حاجتوں کوپوراکیاجاتا ہے۔اورجودو بخشش کی خلعتو ں سے توبہ کرنے والوں کونوازا جاتاہے ۔ 

ٍ    پاک ہے وہ جوسب کامعبودہے ۔جس کی وحدانیت کی گواہی آسمان اوراس میں موجود تمام عجائبات نے دی ۔جس کی ربوبیت کا اقرار زمین نے مشرق و مغرب ہرجگہ کیا۔پاک ہے وہ ذات جس نے حضرتِ سیدنامحمد ِ مصطفی ،احمد مجتبیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنا خاص نبی بنایا ۔وہ نبی جوہمیشہ قائم رہنے والا دین لے کرتشریف لائے۔جوتمام اخلاقِ حمیدہ کے حامل ہیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کے صدقے نفسِ وُجودکوشرف بخشا۔سعادت کودرجہ کمال عطاکیا۔اور آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو بلند مراتب پر فائز فرمایا۔ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو اس مبارک مہینے( یعنی ربیع النور شریف )میں ظاہر فرمایا۔ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو ہر عیب سے پاک وسلامت پیداکیا۔آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی ولادتِ باسعادت کی وجہ سے(ایران کے آتش کدہ میں ایک ہزارسال سے روشن )آگ بجھ گئی ۔ آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کی تشریف آوری سے بت اوندھے منہ گرپڑئے۔ایوانِ کسریٰ لرزہ براندام ہو گیا۔سختیاں اورمصائب دورکردیئے گئے ، شیاطین کو آسمان پر جانے سے روک دیاگیا،اور ان کے کان آسمانی کلام سننے سے بہرے ہوگئے۔جیساکہ ارشادباری تعالیٰ ہے
:''لَا یَسَّمَّعُوۡنَ اِلَی الْمَلَاِ الْاَعْلٰی وَ یُقْذَفُوۡنَ مِنۡ کُلِّ جَانِبٍ ﴿۸﴾٭ۖدُحُوۡرًا وَّ لَہُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ ۙ﴿۹﴾
ترجمۂ کنزالایمان:عالم بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور ان پر ہر طرف سے مار پھینک ہوتی ہے ۔ انہیں بھگانے کواور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ۔''(پ۲۳،الصّٰۤفٰت:۸۔۹)

    یہی وہ نبئ مُکَرَّم اوررسولِ مُعَظَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہیں جن پرقرآنِ مجیدمیں یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:
''اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیۡنَۃِ ۣالْکَوَاکِبِ ۙ﴿۶﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اوربے شک ہم نے نیچے کے آسمان کوتارو ں کے سنگارسے آراستہ کیا۔''(پ۲۳،الصّٰۤفٰۤت:۶)

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو لویئ بن غالب کی اولاد سے پیدا فرمایا۔آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلَّم کو تمام
Flag Counter