اور احمد بن مثنی نے کچھ عرصہ میری صحبت اختیار کی۔جب اس کے مالک کا انتقال ہو گیا توہم حج کے ارادے سے بیت اللہ شریف پہنچے ۔ طوافِ کعبہ کے دوران ہمیں یہ درد بھری آواز سنائی دی:''میں نے تیری محبت میں رسوائیاں جھیلیں،اب تیرے قرب کی امید وار کیونکر نہ ہوں کہ تو ہی اپنے عشق میں گرفتار اُن دلوں کی شکایت دور کرنے والا ہے جو ہجر وفراق کاشکار ہیں۔ اے نفس! اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے گناہوں کی وجہ سے تیرامحاسبہ کر لیا تو تُو برباد ہو جائے گا لہٰذا اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے عفو و درگزر اور رضا مانگ لے ۔''
حضرتِ سیِّدُناسری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں نے اس آواز والے کو تلاش کیاتو مجھے ایک عورت دکھائی دی جس کی عقل اور حالت کچھ ٹھیک دکھائی نہیں دے رہی تھی،اس نے مجھے دیکھ کر کہا:''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم اے سری!''میں نے جواب میں وَعَلَیْکِ السلام کہنے کے بعد پوچھا:''تم کون ہو؟'' وہ کہنے لگی:خدائے وحدَہٗ لاشریک کی معرفت کے بعد بھی اظہارِ ناواقفیت ہو رہا ہے، آپ ابھی تک حجاب میں ہیں ، آپ کے دل پر عشق نے قبضہ نہیں جمایا۔'' یہ کہنے کے بعد اس نے بتایا:'' میرا نام تحفہ ہے ۔''میں نے پوچھا: ''خود کو لوگوں سے الگ تھلگ کرنے کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے کیا نفع دیا؟''اس نے کہا: ''میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے میری تمام امیدیں اورآرزوئیں پوری کردیں اورمیرے دل کو اپنے غیر سے خالی کر دیا۔''اس کے بعد وہ روتی رہی اور اس پر بے چینی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ پھر اُس نے اپنا سر اُٹھا کر یوں عرض کی:''یااللہ عَزَّوَجَلَّ!اہلِ تقویٰ کامیاب ہو گئے ،متّقین نے نجات پائی ، اور وہ شخص ذلیل ورسوا ہوا جس کے حصے میں بد بختی آئی، اے مالکِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ! میں تیری بارگاہ میں التجا کرتی ہوں کہ اپنے وصال اور ملاقات سے قرب عطا فرمااور مجھے اپنے پاس بلالے کہ مجھے دنیامیں رہنے کی حاجت نہیں۔''پھر اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور زمین پر تشریف لے آئی۔ ہم نے اسے حرکت دی تو دیکھا کہ اس کی روح قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کر چکی تھی۔ جب احمد بن مثنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی اس پر نظر پڑی تو اُن کے دل پر رِقّت طاری ہو گئی اور وہ بھی زور زور سے رونے لگے ،پھر انہوں نے بھی بلند آواز سے چیخ ماری اور زمین پر گر پڑے اور ہمیشہ کے لئے دُنیاسے کوچ کر گئے۔حضرتِ سیِّدُناسری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں دونوں کی تجہیزوتکفین کے بعد واپس آ گیا۔مجھے اس واقعہ سے بہت تعجب ہوا۔''
سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! ان لوگوں کی خوب شان ہے جنہوں نے احکامِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کی بجاآوری میں کوئی کوتاہی نہ کی، کائنات کو نگاہِ عبرت سے دیکھا اور غور وفکر کیا اور لغزشوں کو یاد کر کے فکر ِ آخرت کی اور عبرت حاصل کی ،ان کو یہ بات سمجھ آگئی کہ مقبول بندے اپنے محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ سے جا ملے اور اپنے مقاصد پانے میں کامیاب ہوگئے۔