''میں نے صبر کا دامن تھامے رکھا یہاں تک کہ میرا صبر تیری محبت پر فخر کرنے لگا،میں نے اپنی دیوانگی کو چھپائے رکھا لیکن تجھ سے اپنے معاملے کو مخفی نہ رکھ سکی،تیری محبت میں میرا بیڑیاں پہننا اور قید کی تنگی سہنا ہی میرا صبر ہے ،اگر تو مجھ پر اس حالت میں راضی و خوش ہے تو زمانے کی طوالت کی مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ تو ہی میراسب سے بڑا غم گُسار ہے،اور اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! بے شک تو ہی میرا پالنے والا اور میری مصیبت ٹالنے والاہے۔''
حضرتِ سیِّدُناسری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''اشعار پڑھنے کے دوران ہی اس کامالک بھی روتا ہوا آ گیا، میں نے کہا:''آپ نے زحمت کیوں کی ؟ہم خودآپ کے پاس تحفہ کی قیمت لے کر آئے ہیں،اور مزید پانچ ہزار درہم بطورِ نفع بھی لائے ہیں۔''اس نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں نہیں لوں گا۔''میں نے کہا:''دس ہزار درہم چاہتے ہو؟ ''اس نے قسم کھاتے ہوئے کہا: ''میں نہیں لوں گا۔'' میں نے کہا:''اتنا مزید نفع چاہتے ہو؟'' اس نے تیسری بار کہا:'' خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں نہیں لوں گا اور اگر آپ مجھے دنیا اور اس کا تمام مال واسباب بھی دے دیں تب بھی قبول نہیں کروں گا،میں اس کو رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے آزاد کرتا ہوں۔'' میں نے پوچھا: ''مجھے بتاؤ، ماجرا کیاہے؟''اس نے کہا:''یا سیدی !رات کو خواب میں کسی نے مجھے سخت کلمات کے ساتھ ملامت کرتے ہوئے کہا:''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن! تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ولیہ کی توہین کرتا ہے۔'' میں کانپتے ہوئے بیدار ہوگیا، اب مجھے دنیا ذلیل لگنے لگی ہے اوراپنی تمام اشیاء کو چھوڑ کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف بھا گنا چاہتا ہوں ۔''یہ کہہ کر وہ روتا ہوا جدھر منہ آیا چل دیا۔حضرتِ سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں احمد بن مثنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی طرف متوجہ ہوا توان کو بھی روتے ہوئے پایا۔ان پر قبولیت کے آثار نمایاں تھے۔ میں نے پوچھا:''تم کیوں روتے ہو؟''کہنے لگے:''میں ابھی تک اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی نہ کر سکااور نہ ہی اپنا مال قبولیت کے مقام پر پاتا ہوں،اب میں یہ سب اس کی رضا کے لئے صدقہ کرتا ہوں ۔ ' ' میں نے کہا:''یہ سب تحفہ کی برکتیں ہیں۔''پھر تحفہ کھڑی ہوئی، اپنا لباس تبدیل کرکے اون کا جبہ پہن لیا اور بالوں کا دوپٹہ اوڑھے منہ آسمان کی طرف بلند کرکے چل پڑی، ہم بھی اس کے ساتھ ہی چلنے لگے۔ وہ یہ کہتی ہوئی جا رہی تھی:
''میں اس کی بارگاہ کی طرف بھاگی اور اسی کی محبت میں روئی اور حق تو یہ ہے کہ وہی میرا مالک ِ حقیقی ہے، میں ہمیشہ اسی کی بارگاہ میں حاضر رہوں گی یہاں تک کہ اپنی آرزوؤں کے مطابق اپنا حصہ وصول کر لوں۔''
ہم اس کے پیچھے پیچھے چلتے رہے یہاں تک کہ وہ یہ کہتی ہوئی شہر سے باہر نکل گئی:
''اے لوگوں کو خوشی اور مسرت دینے والے! میرا سرور تو تُو ہی ہے۔ اے لوگوں کو زندگی عطا کرنے والے! میری راحت تو تجھی سے ہے، میرے لئے جنت ودوزخ ، میری نعمتیں اورمیرا غمگسار سب کچھ تُو ہی تُو ہے۔''
حضرتِ سیِّدُناسری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''پھر چلتے چلتے وہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگئی ،اس کے مالک