شاید میرے دل کی گھٹن ختم ہو جائے۔ وہا ں داخل ہوتے ہی میں نے اپنے دل سے غم کو دور ہوتا ہوا محسوس کیا۔ میں بارگاہِ الٰہی عَزَّ وَ جَلَّ میں عرض گزار ہوا:'' یااللہ عَزَّوَجَلَّ!یہاں آنے کے لئے تونے مجھے چلایااور بیدار کیا۔''تو مجھے ایک آواز آئی: ''یہاں ہم تمہیں اپنی حکمت کے تحت لائے ہیں ۔' ' حضرتِ سیِّدُنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں پاگلوں کی طرف بڑھا تو ایک زرد رُو باندی پر میری نظر پڑی، اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور و ہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر میں مشغول تھی پھر میں نے سنا کہ وہ اس مفہوم کے چند اشعار پڑھ رہی تھی:
''میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ طلب کرتی ہوں کہ بغیر کسی جرم کے میرے ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ دیئے گئے ہيں حالانکہ نہ تو میں نے خیانت کی اور نہ ہی چوری ۔میرے سینے میں بھی ایک دل ہے جسے میں جلتا ہوا محسوس کرتی ہوں۔ اے میرے دل کی آرزو! تو یقینا حق پر ہے۔ اگر میں نے تجھے پورا نہ کیا تو محض اپنی گفتگو سے تجھے دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے۔''
حضرت سیِّدُناسری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں نے پاگلوں کے قریب کھڑے ہوئے لوگوں سے پوچھا :'' اسے کیا ہوا؟'' تو انہوں نے جواب دیا:''اس کی عقل زائل ہو چکی ہے، اس لئے اس کے آقا نے اسے قید کر دیا ہے ۔''جب باندی نے ان کی یہ بات سنی تو گہری سانس لیتے ہوئے کچھ اشعار پڑھنے لگی، جن کا مفہوم یہ ہے:
''اے لوگو!میں نے کوئی جرم نہیں کیا ،بلکہ میں تو دیوانی ہوں اور میرا دل ہی میرا محبوب دوست ہے اور تم نے میرے ہاتھ باندھ رکھے ہیں، حالانکہ میں نے سوائے محبت کے کوئی جرم نہیں کیا،میں تو اپنے محبوب کی محبت میں فنا ہوں اوراس کے درسے ہٹنے والی نہیں ، تم جو کچھ میرے لئے بہتر سمجھتے ہو وہ میرے لئے بر اہے اور جو میرے لئے برا سمجھتے ہووہ میرے لئے بہتر ہے ۔''
حضرتِ سیِّدُنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:'' اس کا یہ کلام سن کرمیں رونے لگا،میرادل بے قرار ہوگیا،جب اس نے میرے چہرے پر آنسو بہتے ہوئے دیکھے تو کہنے لگی:''اے سری! اوصافِ الٰہیہ عَزَّوَجَلَّ سن کر آپ کا یہ حال ہوگیا تو اگر آپ کو اس کا کماحقُّہ عرفان حاصل ہو جائے تو پھر آپ کا کیا حال ہوگا؟'' میں نے کہا:''تعجب ہے مجھے یہ باندی کیسے پہچانتی ہے ؟ جبکہ میری اس سے پہلے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔'' تو اس نے کہا: ''اے سری! جب سے مجھے معرفت حاصل ہوئی ہے، میں جاہل نہیں رہی۔جب سے عبادت میں مشغول ہوئی ہوں تو کبھی غافل نہیں ہوئی،جب سے وصال ہواکبھی جدائی نہیں ہوئی ،جب سے اس کا دیدار کیا تب سے حجاب حائل نہ ہوا،اور اہلِ درجات تو ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں۔''پھر اس نے اس مفہوم کے اشعار پڑھے:
''معرفت الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی حقیقت میرے باطن کے نور میں متحقق ہو چکی ہے،اب میرا دل خالصۃً اپنے محبوب ہی کے لئے ہے، اب میں ہمیشہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے اوصاف بیان کرتی رہوں گی ۔کیا کوئی عاجز غلام اپنے آقا کے اوصاف بیان کر سکتاہے؟''