حضرتِ سیِّدُناسری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں نے کہا:میں تمہیں محبت کا تذکرہ کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور یہ کہ تم پر وجد کا ظہور ہوتا ہے، تم کس سے محبت کرتی ہو؟''اس نے جواب دیا:''اس ذات سے جس نے اپنے رحم و کرم سے ہمیں اپنی معرفت عطا فرمائی، جس نے اپنے انعامات سے ہمیں اپنا محبوب بنا لیا ،جس کی عطا کے بادل ہم پر برستے ہیں ،جو دلوں کے بہت قریب ہے، غموں کو دور کرتا اور نافرمانوں سے درگزر فرماتا ہے۔'' پھر میں نے پوچھا:''تمہیں یہاں کس نے قید کیا ہے؟'' اس نے کہا: ''حاسدین اور بغض رکھنے والوں نے ، انہوں نے مجھ پر زیادتی کی اور مجھے مجنونہ کا نام دے کر یہاں ڈال دیا حالانکہ وہ خود اس نام کے زیادہ حق دار ہیں ۔''پھر اس نے اس مفہوم کے چند اشعار پڑھے:
''اے وہ بزرگ و برترہستی جس نے میری تنہائی کو دیکھ کر مجھے اپنے وصل کے قرب سے مانوس اور کیف وسرور کی لذتوں سے آگاہ کیا! میں غافل تھی اس نے مجھے بیدار کیا، میں اونگھ رہی تھی اس نے مجھے جگا دیا۔''
حضرتِ سیِّدُناسری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں نے اس کا نام پوچھاتو بولی:''نام کو چھوڑیں جو آپ نے میری باتیں سنیں پہچان کے لئے وہی کافی ہیں۔''ابھی گفتگو جاری تھی کہ اس کا آقا بھی آگیا،اس نے اپنی باندی کے نگران سے پوچھا:''تحفہ کہاں ہے؟''نگران نے جواب دیا:''اس کے پاس حضرتِ سیِّدُناشیخ سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی موجود ہیں، انہوں نے اس سے ایسی گفتگو کی کہ وہ ان کی باتیں بڑے غو ر سے سننے لگی۔'' اس کا مالک بھی ان کے پاس چلاآیااور آپ کو دیکھ کر تعظیماً ًدست بوسی کی اور عرض کی :''یا سیدی ! آپ کی برکت سے یہ باندی نرم دل ہو گئی ہے۔''آپ نے دریافت فرمایا: ''تمہیں اس کی کون سی عادت بری لگی ؟''تواس نے جواب دیا:''یا سیدی !یہ باندی سارنگی بجاتی تھی ،مجھے اچھی لگی میں نے بیس ہزار درہم میں اسے خرید لیاکیونکہ یہ بہت خوبصورت تھی اور مجھے اس کا سارنگی بجانا بھی بہت پسند تھا۔مجھے اُمید تھی کہ میں اس سے دوگنا نفع حاصل کروں گا۔ایک دن میں اس کے پاس آیا، سارنگی اس کی گود میں تھی اور یہ اس مفہوم کے چند اشعار گنگنا رہی تھی:
''تیرے حق کی قسم! میں نے نہ تو اپنے عہد کو توڑا اور نہ ہی اپنی محبت کے صاف ستھرے چشمے کو گدلا کیا بلکہ میرا سینہ اور دل تو محبت سے بھرا ہوا ہے پس مجھے کس طرح قرار اور سکون مل سکتاہے۔اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ!تیرے سوا میرا کوئی معبود نہیں پس تو بھی مجھے اپنی بندی دیکھ کر مجھ سے راضی ہو جا۔''
جب یہ نغمے سے فارغ ہوئی تو بہت دیر تک روتی رہی،اور سارنگی کو زمین پر مار کر توڑ دیا اور چیخنے چلانے لگی،اس کی عقل زائل ہو گئی ،میں سمجھا کہ یہ کسی کی محبت میں گرفتار ہے لیکن جب میں نے اس کی حالت کے متعلق غور کیا تو محبت کا کوئی نشان دیکھنے میں نہ آیا۔''حضرتِ سیِّدُناسری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''میں نے اس باندی سے پوچھا:''کیا اسی طرح ہوا جیسا کہ انہوں نے بتایاہے؟'' تو اس نے جواب میں کچھ اشعار پڑے، جن کا مفہوم یہ ہے: