تومیں تجھے باندھ کر سخت سزا دوں گا۔''باندی نے جواب دیا: ''آپ کی سزا تو ختم ہو جائے گی لیکن میرے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب کبھی ختم ہونے والا نہیں، تواب جو آ پ کے دل میں آئے کریں۔''
یہ بات سن کر آقا نے اپنے غلاموں کوحکم دیا کہ اس باندی کو باندھ کر کوڑوں سے مارو،باندی نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر پکارا: ''اے عظمت والے آقا عَزَّوَجَلَّ !اے وہ ذات جس کے لئے اسماء حسنیٰ ہیں!اے میرے اس آقا کے بھی مالک ومولیٰ عَزَّ وَ جَلَّ! میری مدد فرمااوراے ہلاک ہونے والوں کو پناہ دینے والے! اے غم زدوں کی پوشیدہ اور اعلانیہ مدد فرمانے والے! مجھے اپنی پناہ عطا فرما۔''جب اس کے آقا نے مارنے کے لئے کوڑا اٹھایا تواس کے ہاتھ شل ہو گئے اور اس نے محسوس کیا کہ کسی نے پیچھے سے اس کو کھینچا ہے لیکن جب پیچھے دیکھاتو کوئی دکھائی نہ دیا۔ پھر اچانک ایک آواز آئی:''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ولیہ کو چھوڑ دے ۔''یہ سن کر وہ دھڑام سے زمین پر گرا اور بے ہوش ہو گیا،اوراس کے ہاتھوں سے خو ن بہنے لگا، اس کی باندی اسماء کھڑی ہوئی اور اس کے ہاتھ سے خون صاف کرتے ہوئے کہنے لگی:''اے مسکین شخص! اپنے گناہوں اور خطاؤں سے توبہ کرکے اپنے مالکِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت اختیار کر لے۔'' جب افاقہ ہوا تو اس نے باندی سے کہا:''اے نفس کو مارنے والی ! مجھے معلوم نہ تھا کہ تم اس مقام پرپہنچ گئی ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اب میں تمہارے راستے میں رکاوٹ کھڑی نہیں کروں گا بلکہ تمہارا رفیق بن کر ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا۔''پھر وہ دونوں اکٹھے اطاعت و عبادت میں مشغول ہو گئے اور اپنا مال و دولت ترک کرکے بخوشی قناعت اختیار کر لی۔''
اے میرے اسلامی بھائیو! جب عورتوں نے مردوں کی طرح اعمالِ صالحہ اختیار کئے اور انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے درِ رحمت کا قصد کیا ، ان سے اعمالِ صالحہ ظاہر ہوئے تو ان کے احوال اچھے ہوگئے، و ہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو گئیں، اے اپنے اعمالِ قبیحہ پر اصرار کرنے والے اور کثرتِ غفلت کے سبب توبہ میں ٹال مٹول کرنے والے! تو کس طرف جارہاہے؟