Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
562 - 649
میں پیوست کرنے کے ارادے سے کہا:''اے اپنی نرم آواز سے چیخنے والی! میں دیکھتا ہوں کہ تو قیامت سے خوف زدہ ہے گویاتو اپنے کسی عظیم جرم کا اعتراف کر رہی ہے اوراس کے سبب خوف میں مبتلا ہے۔ تو نے کراماً کاتبین اورمحافظ فرشتوں کوکئی سال زحمت دی۔کبھی کبھی  گناہوں میں راتیں گزار دیں۔کتنے نوجوانوں کو تونے اپنی لچک دار آواز سے ذلیل و خوار کیا۔اپنے حسن وجمال سے کتنوں کو فتنے میں ڈالا۔ اور کتنوں کوبرے کام میں رات بھر بیدار اور انہیں رب عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت او ر نماز سے غافل رکھا۔ محافظ فرشتے تیرے برے اعمال پرگواہ ہوں گے۔تیرے  گناہوں سے وہ بھی پناہ مانگتے ہوں گے۔قیامت کی رسوائی سے پہلے ہی جلدی سے توبہ کرلے اور پل صراط سے پاؤں پھسلنے سے قبل ہی اپنے اندر خوفِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ پیداکرلے۔مصائب ِ آخرت یاد کر کے اپنے آپ پر کچھ آنسو بہالے، تجھے تسبیح اورودعا بہت ضروری ہے۔''اس باندی نے جواب میں کہا:''اے صالح! ماضی میں مَیں جہالت وغفلت کی شکاراور اپنی اصلاح سے بے خبرتھی۔مجھے کہاں خبر تھی کہ میرے ساتھ یہ ہوگا۔ بلکہ میراآقا تو چاہتاہے کہ میں عرصۂ دراز تک گاتی رہوں لیکن اب میں اپنے پچھلے گناہوں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرتی ہوں اور عہد کرتی ہوں کہ اب کبھی بھی گانا نہ گاؤں گی۔'' 

    حضرتِ سیِّدُناصالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:''اے اسماء! یاد رکھ جوگانوں کی آواز بلند کرتا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی پرڈٹا رہتاہے ،اس کا ٹھکانہ وہ سیاہ آگ ہے جو طاقتور وتوانا جسموں کوبھی پگھلاکررکھ دے گی۔ اور ذِلت ورسوئی اس کا مقدر بن جائے گی ۔''پھر اس باندی نے پکار کر کہا:''اے صالح !پوشیدگی چھٹ گئی۔باطل کاخاتمہ ہوگیااور حق ظاہر ہو گیا اور وفا نے قربت سے نوازا ہے۔'' یہ کہہ کر وہ اپنے گھر چلی گئی،اپنے آقا کے ایک غلام سے کہا:''اے غلام! تم جانتے ہو کہ میں تم پر کتنی شفیق ہوں ،تو تم میرے معاملے کو چھپائے رکھنا۔یہ میرے کپڑے تم لے لو اور اپناجبہ مجھ دے دواور سنو! میرا یہ راز کسی سے مت کہنا۔''پھر اس باندی نے اپنا لباس اُتارکرغلام کاجبہ پہن لیااوراپنے بال کاٹ کر آقا کے گھر میں ہی کسی خفیہ مقام پر جا چھپی۔ ساری ساری رات عبادت کرتی، ساراسارادن روزے سے رہتی، سحری کے وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ واستغفار کرتی، گریہ وزاری کرتی اور خوب گڑگڑاتی۔اس کا آقا اس کی جدائی پر غمگین ہونے کی وجہ سے اس کی تلاش میں کئی جگہوں کی خاک چھانتا رہا۔پھر جب وہ زرد رُو اور دبلی پتلی ہو گئی تو اپنے آقا کی خدمت میں حاضر ہوئی ،روزوں اور راتوں کے قیام کی کثرت نے اسے کمزور کردیاتھا، وجد و عشقِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے اس کا حسن مانند پڑگیاتھا۔اس نے آقا کو سلام کیا، سلام کا جواب دینے کے بعد آقا نے پوچھا:''تم کون ہو؟''اس نے جواب دیا:''میں آپ کے دل کا چین و سکون آپ کی باندی اسماء ہوں۔'' آقا نے دریافت کیا: ''تمہاری یہ حالت کیسے ہو گئی؟'' اس نے بتایا:''نافرمانیوں کی نحوست، جہنم اور اس کی ہولناکیوں کے خوف نے میرایہ حال کردیا ہے۔''آقا نے کہا:''اگر تواس سے باز نہ آئی اور اپنے کپڑے پہن کر خود کو نہ سنوارااور اپنے نفس پر سختیاں کرنا ترک نہ کیں